خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد 14 135 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 اسے اخبار دے کر کہتے تھے کہ یہ اخبار آیا ہے ذرا مجھے پڑھ کر سنانا اور اس طرح بعض دفعہ جب سواری اپنی منزل پر پہنچ کے اترتی تھی تو اخبار کا نام پتا نوٹ کر لیتے تھے اور اس طرح جماعت کے رابطے میں آتے تھے اور پھر بیعتیں ہوتی تھیں۔اس وقت لوگ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں باوجود ان پڑھ ہونے کے اور ٹانگہ چلانے کے سب سے زیادہ بیعتیں کروائیں۔اس زمانے میں تو اللہ تعالیٰ نے اور بھی آسانی ہمارے لئے پیدا فرما دی ہے۔ایک تو اپنی تربیت اور خلافت سے مضبوط تعلق کے لئے ہر احمدی کو ایم ٹی اے سننے کی ضرورت ہے اس کی عادت ڈالنی چاہئے۔دوسرے تبلیغ کے لئے جو ایم ٹی اے اور ویب سائٹ پر پروگرام ہیں وہ بھی دوسروں کو بتانے چاہئیں۔اپنے دوستوں کے ساتھ بعض دفعہ موقع ملتا ہے تو بیٹھ کے دیکھنے چاہئیں۔دوستوں کو ان کا تعارف کروانا چاہیئے۔بہت سارے خط مجھے ابھی بھی آتے ہیں کہ جب سے ہم نے ایم ٹی اے پر کم از کم خطبات ہی باقاعدہ سننے شروع کئے ہیں ہمارا جماعت سے مضبوط تعلق ہو رہا ہے۔ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو رہی ہے۔پس آجکل ایم ٹی اے اور اسی طرح alislam کی جو ویب سائٹ ہے یہ جماعت کی ویب سائٹ ہے۔یہ بڑا اچھا ذریعہ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ کو بھی پہنچانے کا ذریعہ ہیں اور ہر احمدی کی تربیت اور خلافت سے جوڑنے اور جماعت سے جوڑنے کا بھی ذریعہ ہیں۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کے ساتھ جڑنے کی کوشش کریں۔بعض لوگ سوچ تو یہ رکھتے ہیں کہ ان کی اصلاح ہو اور اسلامی احکامات کی پابندی کرنے والے ہوں۔خاص طور پر نمازوں کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ با قاعدہ نماز پڑھنے والے ہوں لیکن پھر ایسے لوگوں کی صحبت میں چلے جاتے ہیں جو سست ہیں اور نتیجہ باوجود خواہش کے خود یہ لوگ بھی سست ہو جاتے ہیں۔یہ اثر لا شعوری طور پر پڑ رہا ہوتا ہے۔پس تعلقات بنانے کے لئے بھی ایسے لوگوں کو چنا چاہئے جن کی دینی حالت اچھی ہو جو نمازوں کی با قاعدہ ادائیگی کرنے والے ہوں اور پابند ہوں۔اس حوالے سے خاص طور پر میں ربوہ اور قادیان کے احمدیوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جہاں تھوڑی سی جگہ پر احمدیوں کی بڑی تعداد ہے اور اسی طرح وہاں مساجد بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہیں کہ مسجدوں کو آباد کریں۔اسی طرح بہت سے ایسے لوگ جو جماعت کے نظام کے بارے میں غلط خیالات رکھتے ہیں ان سے بھی بچنے کی کوشش کریں۔باہر سے جو لوگ جاتے ہیں وہ بعض دفعہ اس بارہ میں مجھے لکھتے بھی ہیں، شکایتاً بھی لکھتے ہیں کہ ربوہ میں بھی نمازوں کے اہتمام کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔پس ربوہ کے شہریوں کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔جو کمزور ہیں وہ کمزوروں کا اثر لینے کی بجائے ان لوگوں کا اثر لیں جن کا جماعت سے مضبوط تعلق بھی ہے اور جو نماز میں بھی باقاعدہ ہیں۔اس کی مثال دیتے ہوئے کہ کس طرح اثر ہوتا ہے اور عقل مند کس طرح سمجھ جاتا ہے کہ مجھ پر دوسرے کا اثر ہو رہا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا