خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 134

خطبات مسرور جلد 14 134 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 پھر ایسی روکیں سامنے آسکتی ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے اور تجربہ کار لوگ یہ بتا سکتے ہیں۔ایک احمدی ہو کر ایمان کی ایسی صورت میں حفاظت ہو سکتی ہے جب نظام جماعت اور خلافت سے مضبوط تعلق ہو اور باقاعدہ تعلق ہو اور اس تعلق کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے جن سے دور بیٹھ کر بھی وہ تعلق قائم رہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس بات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ جماعتی معاملات میں افراد کبھی ترقی نہیں کر سکتے بلکہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتے جب تک ان کا جڑ سے تعلق نہ ہو اور اس زمانے میں یہ تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ اخبارات ہیں۔انسان کسی جگہ بھی بیٹھا ہو اہو اگر اسے سلسلہ کے اخبارات پہنچتے رہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے جیسے پاس بیٹھا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے میں اب بول رہا ہوں۔اس وقت آپ بیان فرماتے ہیں کہ اب عورتوں کا جلسہ ہو رہا ہے، جلسے کی تقریر ہے۔عورتیں لاؤڈ سپیکر پر تقریر سن رہی ہیں۔اگر لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے ان تک آواز نہ جارہی ہوتی تو ان کو کچھ علم نہ ہوتا کہ کیا بول رہے ہیں۔پس لاؤڈ سپیکر نے عورتوں کو میری تقریر کے قریب کر دیا ہے۔یہاں بھی اب لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے ، عورتوں کے ہال میں بھی آواز جارہی ہے اور وہ بھی سُن رہی ہیں۔یہ بھی ایک قربت ہے۔اسی طرح اخبارات دُور رہنے والوں کو قوم سے وابستہ رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ الحکم اور بدر ہمارے دو بازو ہیں۔گو بعض دفعہ یہ اخبارات ایسی خبریں بھی شائع کر دیتے تھے جو ضرر رساں ہوتی تھیں مگر چونکہ ان کے فوائد ان کے ضرر سے زیادہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہم ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے یہ دو اخبارات ہمارے دو بازو ہیں۔دو بازو ہونے کے یہی معنی ہیں کہ ان کے ذریعہ ہمارا جو بازو ہے یعنی جماعت وہ ہم سے ملا ہوا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اُس زمانے میں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں، ہمارے اخبارات کی طرف احباب کو بہت توجہ ہوا کرتی تھی۔حالانکہ جماعت اس وقت آج سے دسواں یا بیسواں حصہ تھی اور اب تو سوواں یا ہزارواں حصہ ہے۔چنانچہ بدر کی خریداری ایک زمانے میں، اُس زمانے میں چودہ پندرہ سورہ چکی تھی۔اس کے بعد پھر کم ہوتی رہی۔اسی طرح الحکم کی تعداد بھی بڑھی۔جماعت کے دوست اس زمانے میں کثرت سے اخبارات خریدتے تھے بلکہ جو پڑھے لکھے نہیں تھے بعض دفعہ وہ بھی خریدتے تھے اور دوسروں کو پڑھنے کے لئے دے دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 545-544) بلکہ ایک احمدی بیگہ چلانے والے تھے۔پڑھے لکھے نہیں تھے۔وہ الحکم منگوا کر رکھ لیتے تھے اور اپنی سواریاں جب ٹانگے پر لے کے جاتے تھے تو سواری کی شکل دیکھ کے پہچان لیتے تھے کہ یہ کوئی شریف النفس ہے تو