خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد 14 133 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 ساتھ ساتھ ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ان کے پریکٹیکل بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔اگر یہ نہ ہو تو تجربہ حاصل نہیں ہوتا اور انسان کچھ سیکھ نہیں سکتا۔لیکن اس کے بعد بھی تجربات ضروری ہوتے ہیں صرف یہی نہیں کہ پڑھائی کے دوران تجربہ حاصل کر لیا۔بہر حال کسی طبیب کا طب کا علم تبھی کامل ہو گا جب وہ ساتھ عمل بھی کرے گا۔بغیر عمل کے علم مفید نہیں ہو تا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی علم اور عمل کے متعلق سناتے تھے کہ ایک طبیب تھا جو بہت بڑا عالم تھا۔اس نے طب کا خوب مطالعہ کیا ہوا تھا۔علم حاصل کیا ہوا تھا۔بہت پڑھا ہوا تھا۔اس نے رنجیت سنگھ کا شہرہ سنا تو دتی سے اس کے دربار میں پہنچا کہ شاید ترقی حاصل ہو۔رنجیت سنگھ کا وزیر ایک مسلمان تھا۔اس نے اس سے ملاقات کی اور اس سے مہاراجہ سے ملنے کے لئے سفارش چاہی۔یعنی طبیب نے مسلمان وزیر سے ملاقات کی اور کہا کہ میری سفارش کرو کہ میں راجہ سے مل سکوں۔وزیر کو اندیشہ ہوا کہ اگر اس کا رسوخ ہو گا تو میں کہیں گر نہ جاؤں۔اور طبیب کی سفارش نہ کرنا بھی اس نے مروّت کے خلاف سمجھا۔کچھ وہ طبیب صاحب کی باتوں سے سمجھ بھی گیا تھا کہ ان کا عملی تجر بہ تو کچھ نہیں لیکن بہر حال علم بہت ہے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اس نے اس کی سفارش کی اور کہا کہ حضور یہ بہت بڑے عالم ہیں۔انہوں نے فلاں کتاب پڑھی ہوئی ہے اور اس مسلمان وزیر نے اس طبیب کے علم کی بہت تعریف کی۔مہاراجہ نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ انہوں نے علاج بھی کیا ہے، تجربہ حاصل کیا ہے ؟ وزیر نے کہا کہ تجربہ بھی حضور کے طفیل ہو جائے گا۔آپ پہ تجربہ کر لیں گے۔رنجیت سنگھ بڑا عقل مند آدمی تھا۔وہ سمجھ گیا کہ علم بغیر عمل کے کچھ نہیں اور کہا کہ تجربے کے لئے کیا غریب رنجیت سنگھ ہی رہ گیا ہے۔بہتر ہے کہ حکیم صاحب کو انعام دے کر رخصت کر دیا جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 7 صفحہ 19-18) پس علم کے ساتھ عملی تجربہ بھی ضروری ہے اور دنیا میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔کسی بھی میدان میں علم حاصل کرنے کے بعد اگر عملی تجربہ حاصل نہ کیا جائے تو بعض موقعے ایسے آتے ہیں جہاں کام کرتے وقت انسان کو پتا نہیں لگتا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں اور باوجو د علم کے جو مسئلہ سامنے ہوتا ہے، جو روک ہوتی ہے وہ دُور نہیں ہو سکتی۔پس اگر صرف علم حاصل کر کے انسان اپنے آپ کو کسی مید ان کا ماہر سمجھنے لگ جائے تو پھر اسے رنجیت سنگھ والا جواب ملے گا۔جماعت کی عمومی ترقی کے لئے بھی یہ بہت ضروری ہے اور اس کی بہت اہمیت ہے کہ نوجوان جدید علم جب حاصل کرتے ہیں تو اس کا مزید تجربہ بھی حاصل کریں اور اپنے علم کو تجربہ کار لوگوں کے ساتھ ملا کر پھر جماعت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کریں۔بہت سے مشورے لوگ دیتے ہیں۔نئی ٹیکنالوجی ہے اس کو استعمال کرنا ہے تو بعض دفعہ علم کی حد تک تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے اور یا