خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد 14 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 بڑے پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی دعاؤں سے اپنی ضروریات پوری کر لیتے ہیں۔ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہمارا بڑا قریبی تعلق ہے اور دنیا سے بالکل بے رغبتی ہے۔لیکن ان کے عمل کیا ہیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شخص کی نسبت فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خاص درجہ تک پہنچا ہوا سمجھتا تھا مگر ایک دفعہ ایک مرید کے ہاں گیا اور جا کر کہا کہ لاؤ میرا ٹیکس۔یعنی مجھے نذرانہ دو۔قحط کا موسم تھا۔مرید نے کہا کہ کچھ نہیں ہے۔اس دفعہ معاف کر دو۔پیر صاحب بہت دیر تک لڑتے جھگڑتے رہے اور آخر کوئی چیز اس کی بکوائی۔کوئی چیز اس کو پیچنی پڑی اور پھر روپیہ لے کر اس کی جان چھوڑی۔تو اس قسم کی کمزوریاں اور گندان لوگوں میں دیکھے جاتے ہیں جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہم بڑے پہنچے ہوئے ہیں۔(ماخوذ از ذکر الہی۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 495-494) اور یہ اُس زمانے کی کوئی پرانی باتیں نہیں بلکہ آج بھی پاکستان وغیرہ ملکوں میں ایسے پیر موجود ہیں۔قرآن کریم میں جو علم و معرفت کا بیان ہوا ہے۔اس نے ہر علم کا احاطہ کیا ہو ا ہے۔یہ اور بات ہے کہ اپنی کم علمی اور کم غور و تدبر کی وجہ سے اکثر اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا طب کے تمام اصول قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں اور دنیا کی تمام امراض کا علاج قرآن مجید میں موجود ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے مجھے اس طرح قرآن مجید پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اور ممکن ہے میرا عرفان ابھی تک اس حد تک نہ پہنچا ہو مگر بہر حال جتنا بھی عرفان ہے اپنا عرفان اور اپنے بڑوں کا تجربہ ملاکر میں کہہ سکتا ہوں کہ قرآن مجید سے باہر ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 503) پس قرآن کریم پر غور اور تدبر کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفاسیر پڑھنی چاہئیں۔پھر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی تفسیریں لکھی ہیں وہ پڑھنی چاہئیں۔خلفاء کی بعض آیتوں پر وضاحتیں ہیں، تفسیر ہے ان کو دیکھنا چاہئے۔خود غور کرنا چاہئے اور قرآن کریم سے ہی علم و معرفت کے نکتے تلاش کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیئے۔بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ہم نے علم حاصل کر لیا اور یہ بہت ہے اور کسی چیز کی ہمیں ضرورت نہیں۔کسی تجربے کی ہمیں ضرورت نہیں۔کسی دوسرے سے مشورہ لینے کی ہمیں ضرورت نہیں۔لیکن یہ ضروری ہے یہ یادرکھنے والی بات ہے کہ علم کے ساتھ تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص محض کتاب پڑھ کر طبیب بننا چاہے تو بہت مشکل ہے۔بڑا محال ہے۔مثلاً طب کی کتب ہیں۔ضرورت ہے کہ ان کے پڑھنے کے ساتھ لائق طبیب کے سامنے مریضوں کی تشخیص اور علاج کیا ہو۔اگر ایک طبیب ہے جب کتب پڑھ لے تو پھر کسی ماہر کے سامنے مریضوں کی تشخیص اور علاج بھی کرتا ہو۔اسی لئے ڈاکٹروں کو جب کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے تو اس کے