خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 131

خطبات مسرور جلد 14 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 کرتے ہیں اور بڑی مختلف آوازیں نکالتے ہیں۔بناوٹی قسم کی رقت بھی طاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو ایسے ہی ایک خطیب کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خطیب کا ذکر سناتے تھے کہ وہ لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس کا مضمون بڑار فت والا تھا۔ایک شخص آیا اور کھڑا ہو گیا۔زمیندار آدمی تھا۔ہاتھ میں اس کے ترنگڑی تھی۔یہ زمینداروں کی ایک چیز ہوتی ہے تین شاخہ سا آلہ ہوتا ہے۔اس کا دستہ لمبا ہو تا ہے جو بھوسہ وغیرہ اٹھانے کے لئے ، تُوڑی اٹھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔پر جب جدید ٹیکنالوجی آئی ہے تو اس سے پہلے پرانے زمانے میں تو یہ یہاں مغربی ممالک میں بھی استعمال ہو تا تھا۔بہر حال دیہات سے آیا اور تقریر سننے کے لئے کھڑا ہو گیا۔جتنے لوگ وہاں بیٹھے تھے ان پر تو اس تقریر کا اثر نہ ہوا لیکن وہ زمیندار تھوڑی ہی دیر بعد رونے لگ گیا۔تقریر کرنے والا جو واعظ تھا اس کی جو شامت آئی اور اس کے دل میں ریا پیدا ہوئی تو اس نے خیال کیا کہ یہ میرے وعظ سے متاثر ہو گیا۔اس نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھو انسانوں کے قلوب بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ تم لوگ ہو جو گھنٹوں سے میر اوعظ سن رہے ہو لیکن ان مطلق اثر نہیں ہوا۔مگر یہ ایک اللہ کا بندہ ہے اس پر فوراً اثر ہو گیا۔تھوڑی دیر کے لئے آیا ہے، کھڑ ا ہوا ہے اور یہ رو پڑا۔پھر اس نے لوگوں کو بتانے کے لئے کہ دیکھو کتنا اثر ہو ا ہے اس سے پوچھا کہ میاں ! کس بات نے تم پہ اثر کیا ہے کہ تم رو پڑے ہو۔اس نے کہا، اس کو صحیح طرح زمیندار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو پرانے ہوں کہ کل اسی طرح میری بھینس کا بچہ اڑا اڑا کر مر گیا تھا تو جب میں نے آپ کی آواز سنی تو وہ یاد آگیا اور میں رو پڑا۔تو یہ سن کر خطیب صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 6 صفحہ 137) گویا اس شخص کے جذبات تو ابھرے لیکن خطیب کے زور دار آواز میں بولنے اور بعض دفعہ رفت کی کوشش میں اپنے گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکالنے کی وجہ سے اس کو اپنی بھینس کا بچہ جو گلے سے عجیب آوازیں نکالتے ہوئے مرا تھاوہ یاد آگیا۔تو خطیب بیچارے کو اپنے خطاب کی جو غلط فہمی ہو گئی تھی کہ میری جو رفت بھری تقریر ہے یہ سن کے شاید یہ رو پڑا ہے تو وہ اس کی ریانے، اس کی بناوٹ نے فورا دُور کر دی۔ہمارے خلاف جو مولوی بولتے ہیں اگر کبھی ان کی تقریریں سنیں تو بالکل اسی طرح آوازیں آرہی ہوتی ہیں۔بہر حال یہ تو اُن لوگوں کا کام ہے۔خاص طور پر جب ان کو احمدیت کے خلاف بولنے کا جوش آتا ہے تو جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں یا پاکستان سے ان دنوں میں آئے ہیں ان کو پتا ہو گا، جنہوں نے ان کی تقریریں سنی ہوں گی کہ کس طرح کی اور کیسی تقریریں ان کی ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ احسان ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی ورنہ اسلام کے نام پر پیروں نے جو دوکانداریاں چمکائی ہوئی ہیں ہم بھی شاید انہی کا حصہ ہوتے۔دعوے تو یہ پیر لوگ کرتے ہیں کہ