خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 130
خطبات مسرور جلد 14 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔لیکن بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کا مناسب احترام نہیں کرتے اور نہ ان کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔بلکہ اولاد میں سے اگر کسی کو اچھا عہدہ مل جائے تو وہ اپنے غریب والدین سے ملنے میں بھی شرم محسوس کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کسی ہندو نے بڑی تکلیف برداشت کر کے اپنے لڑکے کو بی اے اور ایم اے کروایا اور اس ڈگری کو حاصل کرنے کے بعد وہ ڈپٹی ہو گیا۔سول سروس پہ چلا گیا۔اس زمانے میں ڈپٹی ہونا بڑا اعزاز تھا۔گو آج کے زمانے میں کوئی بڑا اعزاز نہیں سمجھا جاتا۔اس کے باپ کو ایک دن خیال آیا کہ میرا لڑکاڈپٹی ہو گیا ہے میں بھی اس سے مل آؤں۔چنانچہ جس وقت وہ ہندو اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے مجلس میں پہنچا تو اس وقت اس کے پاس وکیل اور بیرسٹر وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔یہ بھی اپنی گندی دھوتی کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گیا۔باتیں ہوتی رہیں۔ان میں سے کسی شخص کو اس آدمی کا بیٹھنا برا محسوس ہوا اور اس نے پوچھا کہ ہماری مجلس میں یہ کون بیٹھا ہوا ہے ؟ تو ڈپٹی صاحب اس کی بات سن کر جھینپ گئے اور شرمندگی سے بچنے کے لئے کہنے لگے کہ یہ ہمارے ٹہلیا ہیں۔یعنی کھلانے والے ہیں۔باپ اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر غصے کے ساتھ جل گیا اور اپنی چادر سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔جناب ! میں ان کا ٹہلیا نہیں ان کی ماں کا ٹہلیا ہوں۔ساتھ والوں کو جب معلوم ہوا کہ یہ ڈپٹی صاحب کے والد ہیں تو انہوں نے اس کو بڑی لعن طعن کی کہ اگر ہمیں پہلے بتا دیتے تو ہم اس کی مناسب تعظیم و تکریم کرتے۔ادب کے ساتھ ان کو بٹھاتے۔بہر حال اس قسم کے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں کہ اگر رشتہ دار غریب ہوں تو لوگ رشتہ داروں کے ساتھ ملنے سے جی چراتے ہیں۔چاہے وہ باپ ہے یا کوئی اور رشتہ دار ہے تا کہ ان کی اعلیٰ پوزیشن میں کوئی کمی نہ آئے۔گویا ماں باپ کا احترام یا اور دوسرے رشتے جن کا احترام کرنا چاہئے ان سے لوگ بچتے ہیں اور پھر بجائے اس کے کہ ماں باپ کا نام روشن کریں یہ تو الگ رہا ان کے نام کو بٹہ لگانے والے بن جاتے ہیں۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 593) ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ یہ مضمون بیان فرمارہے تھے کہ لوگ بعض علماء یا مقررین کی تقریر صرف وقتی حظ اٹھانے کے لئے عاد تا سنتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارے میں یہی فرمایا ہوا ہے کہ مجلسوں میں صرف اس لئے نہ آؤ کہ فلاں مقرر اچھا ہے اس کی تقریر سننی ہے بلکہ یہ دیکھو کہ اس مجلس میں کیا ذکر ہو رہا ہے اور اس سے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔بہر حال بعض لوگ نہ مقرر کی بات کی گہرائی کو نہ تقریر کو سمجھ رہے ہوتے ہیں، نہ اس کا مقصد ان کو سمجھ آ رہا ہوتا ہے۔صرف وقتی حظ کے لئے بیٹھے ہوتے ہیں۔اسی طرح بعض مقررین بھی صرف عارضی جذباتی کیفیت پیدا کرنے کے لئے بڑی زور دار تقریر کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش