خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد 14 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 وغیرہ نہیں آگیں گی۔تو بہر حال اگر ہو گئی تو کمہارن کے بر تن خراب ہو جائیں گے۔اگر نہ ہوئی تو سبزیوں والوں کی سبزی کا نقصان ہو گا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد سوم صفحہ 211) بظاہر تو یہ ہلکی پھلکی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مثال اس ضمن میں بیان فرمائی کہ قادیان کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔دوستوں نے سمجھایا لیکن دونوں نے یہی کہا کہ نہیں ہم نے انگریزی عدالت میں جانا ہے وہیں سے فیصلہ کروانا ہے اور ایک دوسرے پر سر کاری عدالت میں نالش کر دی۔جب مقدمے کی پیشی ہوتی تو وہ خود یا ان کا کوئی نمائندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے کہنے آجاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ دونوں میرے مرید ہیں اور ان سے تعلق بھی ہے۔کس کے لئے دعا کروں کہ وہ ہارے اور وہ جیتے۔میں تو یہی دعا کر تاہوں کہ جو سچا ہے وہ جیت جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 210) آجکل بھی یہی حال ہے۔جب احمدی ایک دوسرے پر قضاء میں یا عدالت میں کیس کرتے ہیں تو دعا کے لئے بھی ساتھ لکھ دیتے ہیں۔ایسی دعا کے لئے کہنا تو ایسا ہی ہے جیسے بارش ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ہے۔یا تو کمہاروں میں بیاہی ہوئی لڑکی کو نقصان پہنچے گا یامالیوں میں بیاہی ہوئی لڑکی کو نقصان پہنچے گا۔کسی نہ کسی نے نقصان اٹھانا ہے۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ اس مثال سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں مقدمے بازی ہوتی تھی تو آج بھی اگر ہو رہی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ جائز ہے۔یہ جائز تو ہے کہ انصاف کے لئے انسان عدالت میں جائے لیکن اگر آپس میں فیصلے دوستوں کے ذریعہ ہو سکتے ہوں، ثالثی فیصلے ہو سکتے ہوں، مل بیٹھ کے ہو سکتے ہوں تو عدالتوں میں بھی نہیں جانا چاہئے اور پھر ڈھٹائی بھی نہیں دکھانی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس نمونے کو پسند نہیں فرمایا تھا۔پس ضد جو ہے یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔اس لئے اس ضد سے بھی بچنا چاہئے اور پھر دعا کے لئے کہہ کے امام کو بھی مشکل سے بچانا چاہئے۔کیونکہ اگر دونوں ہی فریق احمد ی ہوں تو کس کے لئے دعا کرے اور کس کے لئے نہ کرے۔اور وہی دعا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جس کا حق بنتا ہے اسے دے دے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایک حکم کی طرف، ایک بات کی طرف ہمیں توجہ دلائی اور وہ یہ کہ والدین کا عزت و احترام کرنا چاہئے۔سوائے دین کے معاملے کے ، خدا تعالیٰ کے حکموں کے معاملے کے والدین کی اطاعت کرنی چاہئے۔ان کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔جب دین کا معاملہ آئے تو بیشک یہ کہا جاسکتا ہے کہ میں احترام تو آپ کا کرتاہوں لیکن کیونکہ خد اتعالیٰ کا معاملہ ہے اس لئے یہ بات ماننا میرے لئے مشکل ہے ، میری مجبوری ہے۔