خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد 14 128 10 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 مارچ 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 04 / مارچ 2016ء بمطابق 04 امان 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ کچھ عرصہ میں بعض جمعوں کے خطبات میں میں نے بعض کہاوتیں، حکایتیں یا بعض کہانیاں جو سبق آموز ہیں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے بیان فرمائیں، بیان کیں۔آج جب میں نے ان حکایتوں کو بیان کرنے کے لئے چنا تو مجھے خیال آیا کہ پاک وہند کی پرانی کہانیاں اور روایتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں ان روایتوں کا آج تک جاری رہنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل سے ہی ہے۔اگر جماعت کے لٹریچر میں یہ نہ ہو تیں تو کبھی کی یہ کہیں دفن ہو چکی ہوتیں اور اس جدید زمانے میں ان کو کوئی بھی نہ جانتا۔آج ان باتوں کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوتا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا میں یہ دیکھ رہا تھا۔سو ان روایتوں کو آج بیان کروں گا۔یہ صرف کہانیاں ہی نہیں بلکہ بعض حقیقی واقعات بھی ہیں۔بعض اور طرز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصائح بھی فرمائی ہوئی ہیں۔بعض جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو بظاہر تو لطیفے ہیں لیکن ان لطیفوں میں سے بھی آپ اصلاح کا پہلو ہمارے سامنے پیش فرما دیتے ہیں۔ایسا ہی بظاہر ایک لطیفہ ہے جو پیش کر تاہوں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مالن کی مثال بیان فرمایا کرتے تھے۔فرماتے کہ اس کی دولڑکیاں تھیں ایک کمہاروں کے گھر بیاہی ہوئی تھی دوسری مالیوں کے ہاں۔جب کبھی بادل آتا تو وہ عورت دیوانہ وار گھبرائی ہوئی پھرتی تھی۔لوگ کہتے تھے اسے کیا ہو گیا ہے ؟ وہ کہتیں کہ میری ایک بیٹی نہیں رہی۔کیوں کہ اگر بارش ہو گئی تو جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے وہ نہیں رہی، ان کا کاروبار ختم ہو جائے گا۔اور اگر بارش نہ ہوئی تو جو مالیوں کے گھر ہے وہ نہیں رہے گی کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سبزیاں