خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 126
خطبات مسرور جلد 14 126 خطبه جمعه فرمودہ مور محد 26 فروری 2016 نبی کو بھی جب آواز آتی ہے کہ خدازمین و آسمان کا پیدا کرنے والا خدا، خدا عزت و شوکت کو پیدا کرنے والا خدا، بادشاہوں کو گرا اور گداؤں کو بادشاہ بنانے والا خدا، حکومتوں کو قائم کرنے اور حکومتوں کو مٹانے والا خدا، دولتوں کو دینے اور دولتوں کو لینے والا خدا، رزق کے دینے اور رزق کے چھیننے والا خدا، زمین و آسمان کے ذرے ذرے اور کائنات کا مالک خدا ایک کمزور ، ناتواں اور نحیف انسان کو آواز دیتا ہے کہ میں مدد کا محتاج ہوں، میری مدد کرو تو وہ کمزور اور ناتواں اور نحیف بندہ عقل سے کام نہیں لیتا۔وہ یہ نہیں کہتا کہ حضور کیا فرما رہے ہیں۔کیا حضور مدد کے محتاج ہیں۔اے اللہ تو مدد کا محتاج ہے ؟ حضور تو زمین و آسمان کے بادشاہ ہیں۔میں کنگال اور غریب، کمزور آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔وہ یہ نہیں کہتا بلکہ وہ نحیف و نزار اور کمزور جسم کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں حاضر ہوں۔میں حاضر ہوں۔میں حاضر ہوں۔کون ہے جو ان جذبات کی گہرائیوں کا اندازہ کر سکتا ہے سوائے اس کے جس کو محبت کی چاشنی سے تھوڑا بہت حصہ ملا ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے اس وقت اور آج سے 126 سال پہلے اسی خدا نے پھر یہ آواز بلند کی اور قادیان کے گوشہ تنہائی میں پڑے ہوئے ایک انسان سے کہا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔مجھے دنیا میں ذلیل کر دیا گیا ہے۔میری دنیا میں کوئی عزت نہیں ہے۔میراد نیا میں کوئی نام لیوا نہیں ہے۔میں بے یارومددگار ہوں۔اے میرے بندے میری مدد کر۔اس نے یہ نہیں سوچا کہ یہ کہنے والا کون ہے۔اور جس نے خطاب کیا ہے اور جس سے خطاب کیا جاتا ہے وہ کون ہے اس کی عقل نے یہ نہیں کہا کہ مجھے بلانے والے کے پاس تمام طاقتیں ہیں میں بھلا اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔اس کی محبت نے یعنی خدا تعالیٰ کی محبت نے اس کے دل میں ایک آگ لگادی۔جب خدا تعالیٰ کا پیغام ملا تو ایک آگ لگادی اور دیوانہ وار بغیر کسی چیز کے جوش میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا میرے رب میں حاضر ہوں۔میرے رب میں حاضر ہوں۔میرے رب میں۔میں بچاؤں گا دین کو تباہ ہونے سے بچاؤں گا۔(ماخوذ از الفضل 25 جنوری 1940ء جلد 28 نمبر 15 صفحہ 8 تا10) پس آج ہم جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا شخص کو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کا عہد کر کے کھڑا ہونے والے شخص کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔آج ہم جو اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت میں آنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اگر آج ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور اسلام اپنی نشاۃ ثانیہ کے دور میں داخل ہوا ہے اور اب یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے میں پہنچے گا۔اگر ہم نے آپ سے یہ عہد بیعت اس لئے