خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد 14 125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 بہر حال فرماتے ہیں کہ پس میں کہتا ہوں کہ اگر خدا کے لئے بھی رونا ممکن ہو تا، اگر خدا کے لئے بھی ہنسنا ممکن ہو تا تو جس وقت خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کرتا ہوں اور آپ فوراً کھڑے ہو گئے اور آپ نے یہ سوچا تک نہیں کہ یہ کام مجھ سے ہو گا کیو نکر۔اگر اس وقت خدا کے لئے رونا ممکن ہوتا تو میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا رو پڑتا اور اگر خدا کے لئے ہنسنا ممکن ہو تا تو وہ یقینا ہنس پڑتا۔وہ ہنستا بظاہر اس بیوقوفی کے دعوے پر جو تمام دنیا کے مقابلے پر ایک نحیف و ناتواں وجود نے کیا اور وہ رو پڑتا اس جذبہ محبت پر جو اس تن تنہا روح نے خدا کے لئے ظاہر کیا۔یہی سچی دوستی تھی جو خدا کو منظور ہوئی اور اسی رنگ کی سچی دوستی ہی ہوتی ہے جو دنیا میں بھی کام آیا کرتی ہے۔پھر آپ نے وہ واقعہ بیان کیا جو میں نے دو دوستوں کا، غریب اور امیر کا بیان کیا۔پھر فرمایا کہ دنیا کی زبان میں یہ دوستی کی نہایت ہی شاندار مثال ہے جو بیان پہلے ہو چکی ہے اور انسان ایسے جذبات کو دیکھ کر بغیر اس کے کہ وہ اپنے دل میں شدید ہیجان محسوس کرے نہیں رہ سکتا۔مگر اس دوستی کا اظہار اُس دوستی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو نبی اپنے خدا کے لئے ظاہر کرتے ہیں۔وہاں قدم قدم پر مشکلات ہوتی ہیں۔وہاں قدم قدم پر قربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں اور وہاں قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔پس نبیوں کا جواب اپنے خدا کو ویسا ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے جیسے اس غریب آدمی نے امیر آدمی کو دیا تھا۔بیشک اگر معقولات کی نظر سے اس کو دیکھیں اور منطقی نقطہ نگاہ سے اس پر غور کریں تو اس غریب آدمی کی یہ حرکت ہنسی کے قابل نظر آتی ہے کیونکہ اس امیر کے ہزاروں نوکر چاکر تھے، ان کے ہوتے ہوئے ان کی بیوی نے کیا زائد خدمت کر لینی تھی۔اسی طرح وہ لاکھوں کا مالک تھا اس کو سو ڈیڑھ سو روپے کی تھیلی کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی اور خود اس کے کئی پہریدار اور محافظ تھے اس کو اس دوست کی تلوار کیا نفع پہنچا سکتی تھی ؟ مگر محبت کے جوش میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ میری تلوار کیا کام دے گی۔میرا تھوڑ اساروپیہ کیا فائدہ دے گا اور میری بیوی کیا خدمت سر انجام دے گی۔اس نے تو اتناہی سوچا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ مجھے حاضر کر دینا چاہئے۔جس وقت محبت کا انتہائی جوش اٹھتا ہے اس وقت عقل کام نہیں کرتی۔محبت عقل کو پرے پھینک دیتی ہے اور محبت فکر کو پرے پھینک دیتی ہے اور پھر وہ محبت آپ سامنے آجاتی ہے۔جس طرح چیل جب مرغی کے بچوں پر حملہ کرتی ہے تو مرغی بچوں کو جمع کر کے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے اور بعض دفعہ تو محبت ایسی ایسی حرکات کرا دیتی ہے کہ دنیا اسے پاگل پنے کی حرکات قرار دیتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جنون دنیا کی ساری عقلوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور دنیا کی ساری عقلیں اس ایک مجنونانہ حرکت پر قربان کی جاسکتی ہیں کیونکہ اصل عقل وہی ہے جو محبت سے پیدا ہوتی ہے۔یہ یاد رکھنے والی چیز ہے کہ اصل عقل وہی ہے جو محبت سے پیدا ہوتی ہے۔