خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 124
خطبات مسرور جلد 14 124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 بھی حضرت مصلح موعود نے بڑے خوبصورت رنگ میں بڑے دلچسپ الفاظ میں پیش فرمایا کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دلیلیں نہیں پوچھی جاتیں۔وہاں انسان پہلے اطاعت کا اعلان کرتا ہے پھر یہ سوچتا ہے کہ میں اس حکم پر کس طرح عمل کروں۔یہی کیفیات انبیاء کی ہوتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کا پہلا کلام اترتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں اتنی ہوتی ہے کہ وہ دلیل بازی نہیں کرتے۔اور پھر جب خدا کی آواز ان کے کانوں تک پہنچتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ اے ہمارے رب ! کیا تو ہم سے ہنسی کر رہا ہے۔کہاں ہم اور کہاں یہ کام ؟ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! بہت اچھا اور یہ کہہ کر کام کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد سوچتے ہیں کہ اب انہیں کیا کرنا چاہئے۔یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رات کیا۔خدا نے کہا اٹھ اور دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہو اور وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر یہ سوچنے لگے کہ اب میں یہ کام کس طرح کروں گا۔پس آج سے پچاس سال پہلے جب آپ نے پچاس سال کہا تھا اور آج اس بات کو تقریباً 125 سال ہو گئے ہیں بلکہ آج سے 126-27 سال کہتے ہیں کہ آج سے پچاس سال پہلے کی وہ تاریخی رات جو دنیا کے آئندہ انقلابات کے لئے زبر دست حربہ ثابت ہونے والی ہے۔جو آئندہ بننے والی نئی دنیا کے لئے ابتدائی رات اور ابتدائی دن قرار دی جانے والی ہے۔اگر ہم اس رات کا نظارہ سوچیں تو یقیناً ہمارے دل اس خوشی کو بالکل اور نگاہ سے دیکھیں۔ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ خوشی انہیں کسی گھڑی کے نتیجہ میں ملی ہے۔یعنی وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آئے انہیں یہ مسرت کسی فعل کے نتیجے میں حاصل ہوئی اور کس رات کے بعد ان پر کامیابی و کامرانی کا یہ دن چڑھا۔بہت سے لوگ مسیح موعود کا انتظار کرتے کرتے مر گئے لیکن وہ جنہوں نے مانا وہ یہ سوچتے ہیں اور اس طرح سوچتے ہیں کہ یہ خوشی اور یہ مسرت اور یہ کامیابی و کامرانی کا دن ان کو اس گھڑی اور اس رات کے نتیجہ میں ملا جس میں ایک تن تنہا بندہ جو دنیا کی نظروں میں حقیر اور تمام دنیاوی سامانوں سے محروم تھا اسے خدا نے کہا کہ اٹھ اور دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہو اور اس نے کہا اے میرے رب میں کھڑا ہو گیا۔یہ وہ وفاداری تھی، یہ وہ محبت کا صحیح نظارہ تھا جسے خدا نے قبول کیا اور اس نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو نوازا۔رونا اور ہنسنا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہیں۔اللہ تعالیٰ نہ روتا ہے نہ ہنستا ہے لیکن محبت کی گفتگو میں اور محبت کے کلاموں میں یہ باتیں آہی جاتی ہیں۔جس طرح حدیث میں بھی آتا ہے کہ جب ایک صحابی نے مہمان نوازی کی تو اللہ تعالیٰ ان کی باتوں پر خوش ہوا اور ہنسا۔(بخاری کتاب مناقب الانصار باب قول الله عزوجل ويؤثرون على انفسهم حديث 3798)