خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد 14 123 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 اور ایک تھیلی جس میں میرا ایک سال کا اندوختہ ہے، چند سو روپے ہیں اور میری بیوی خدمت کے لئے آئی ہے کہ شاید آپ کے گھر میں کوئی تکلیف ہو۔اور یہ دیر جو ہوئی ہے اس لئے ہوئی کہ تھیلی زمین میں دہائی ہوئی تھی اس کو نکالنے میں دیر لگ گئی۔میں نے خیال کیا کہ ممکن ہے کوئی ایسی مصیبت ہو جس میں کوئی جانباز کام آ سکتا۔ہو اس لئے میں نے تلوار ساتھ لے لی کہ اگر جان کی ضرورت ہو تو میں جان پیش کر سکوں۔پھر میں نے خیال کیا کہ گو آپ امیر آدمی ہیں لیکن ہو سکتا ہے کوئی مصیبت ایسی آئی ہو جس سے آپ کا مال ضائع ہو گیا ہو اور میں روپیہ سے آپ کی مدد کر سکوں تو میں نے یہ تھیلی ساتھ لے لی ہے۔اور پھر میں نے خیال کیا کہ بیماری وغیرہ انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ہو سکتا ہے آپ کے گھر میں کوئی تکلیف ہو تو میں نے بیوی کو بھی ساتھ لے لیا تا کہ وہ خدمت کر سکے۔اس امیر آدمی نے کہا کہ میرے دوست! مجھے اس وقت کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور کوئی مصیبت اس وقت مجھے نہیں آئی بلکہ میں صرف اپنے بیٹے کو سبق سکھانے کے لئے آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ یہ سچی دوستی ہے اور اس سے بڑھ کر سچی دوستی انسان کو اللہ تعالیٰ سے قائم کرنی چاہئے کہ وہ اپنی جان اور مال اور اپنی ہر چیز کی قربانی کے لئے تیار رہے۔جس طرح دوست کبھی مانتے ہیں اور کبھی منواتے ہیں اسی طرح انسان کا فرض ہے کہ وہ صدق دل کے ساتھ اور شرح صدر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ ہماری کتنی باتیں مانتا ہے۔رات دن ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس نے جو چیزیں ہماری راحت اور آرام کے لئے بنائی ہیں ہم ان کو استعمال کرتے ہیں۔آخر کس حق کے ماتحت ہم اتنی چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہماری کتنی خواہشوں کو پورا کرتا ہے اور اگر کوئی ایک آدھ دفعہ اپنی خواہش کے خلاف ہو جائے تو کس طرح لوگ اللہ تعالیٰ سے بد ظن ہو جاتے ہیں۔اصل تعلق یہ ہے کہ عُسر ہو اور ٹیسر ہو دونوں حالتوں میں استوار رہے اور اس میں کوئی فرق نہ آئے۔(ماخوذ از اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے۔انوار العلوم جلد 18 صفحہ 382 تا384) پس وہ لوگ جو نمازوں کے حق ادا نہیں کرتے انہیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔وہ لوگ جو دین کو دنیا پر مقدم م کرنے کے عہد کو پورا نہیں کرتے انہیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔وہ لوگ جو یہاں آئے تو احمدیت کی وجہ سے ہیں لیکن یہاں آکر بھول گئے ہیں کہ احمدیت کی وجہ سے ہی انہیں یہاں رہنے کا، شہریت کا حق ملا ہے اور اس وجہ سے ان کو زیادہ سے زیادہ جماعت کی خدمت کے لئے آگے آنا چاہئے لیکن وہ اسے بھول جاتے ہیں اور بعض دفعہ اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگ نہ اچھے عابد ہیں نہ وفادار ہیں۔وفا تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ عسر اور ٹیسر میں تنگی اور آسائش میں دونوں حالتوں میں ایسی ہونی چاہئے جس کے اعلیٰ معیار قائم ہوں۔اللہ تعالیٰ کے لئے ہر وقت اس کے در پر رہ کر قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے۔اس دوستی کا حق ادا کرنے والے اشخاص کا واقعہ جو ابھی میں نے سنایا ہے وہ انبیاء اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر کس طرح چسپاں ہوتا ہے۔اس کو