خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 122

خطبات مسرور جلد 14 122 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 سے دیتے تھے۔آپ سنایا کرتے تھے کہ کوئی امیر آدمی تھا اس کے لڑکے کے کچھ اوباش لڑکے دوست تھے۔آوارہ گرد لڑ کے دوست تھے۔باپ نے اسے سمجھایا کہ یہ لوگ تیرے سچے دوست نہیں ہیں۔محض لالچ کی وجہ سے تمہارے پاس آتے ہیں ورنہ ان میں سے کوئی بھی تمہارا وفادار نہیں ہے۔مگر لڑکے نے اپنے باپ کو جواب دیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی سچا دوست شاید میسر نہیں آیا۔اس لئے آپ سب لوگوں کے متعلق یہی خیال رکھتے ہیں۔میرے دوست ایسے نہیں ہیں۔وہ بہت وفادار ہیں اور میرے لئے جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔باپ نے پھر سمجھایا کہ سچے دوست کا ملنا بہت مشکل ہے۔باپ نے کہا کہ ساری عمر میں مجھے ایک ہی سچا دوست ملا ہے لیکن وہ لڑکا اپنی ضد پر قائم رہا۔کچھ عرصہ کے بعد اس نے گھر سے خرچ کے لئے کچھ رقم مانگی تو باپ نے جواب دیا کہ میں تمہارا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔تم اپنے دوستوں سے مانگو۔میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے۔دراصل اس کا باپ اس کے لئے موقع پیدا کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کا امتحان لے۔جب باپ نے گھر سے جواب دے دیا اور تمام دوستوں کو معلوم ہو گیا کہ لڑکے کو گھر سے جواب مل گیا ہے تو انہوں نے اس کے پاس آنا جانا بند کر دیا اور میل ملاقات چھوڑ دی۔آخر تنگ آکر یہ لڑکا خود ہی ان دوستوں کو ملنے کے لئے ان کے گھروں پر گیا۔جس دوست کے دروازے پر دستک دیتا وہ اندر سے ہی کہلا بھیجتا کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔کہیں باہر گئے ہوئے ہیں یاوہ بیمار ہیں اس وقت نہیں مل سکتے۔سارا دن اس نے چکر لگایا مگر کوئی دوست ملنے کے لئے باہر نہ آیا۔آخر شام کو گھر واپس لوٹا۔باپ نے پوچھا بتاؤ دوستوں نے کیا مدد کی۔کہنے لگا سارے ہی حرام خور ہیں۔کسی نے کوئی بہانہ بنالیا ہے اور کسی نے کوئی۔باپ نے کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ یہ لوگ وفادار نہیں ہیں۔اچھا ہوا تمہیں بھی تجربہ ہو گیا۔اب آؤ میں تمہیں اپنے دوست سے ملاؤں۔وہ پاس ہی ایک جگہ گیا۔اس کا ایک دوست جو سپاہی تھا۔کسی چوکی میں ملازم تھا۔یہ باپ بیٹا اس کے مکان پر پہنچے اور دروازے پر دستک دی۔اندر سے آواز آئی کہ میں آتا ہوں۔کافی دیر ہو گئی۔دروازہ کھولنے کے لئے کوئی نہ آیا۔لڑکے کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے۔اس نے باپ سے کہا ابا جی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دوست بھی میرے دوستوں جیسا ہی ہے۔باپ نے کہا دیکھ۔کچھ دیر انتظار کرو۔آخر کچھ وقت گزر گیا۔اس نے دروازہ کھولا تو باہر آیا تو گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔ایک ہاتھ میں ایک تھیلی اٹھائی ہوئی تھی دوسرے ہاتھ سے بیوی کا بازو پکڑا ہوا تھا۔دروازہ کھولتے ہی اس نے کہا کہ معاف فرمائیے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔میں جلدی نہ آسکا۔میرے جلدی نہ آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ نے جب دروازے پر دستک دی تو میں سمجھ گیا کہ آج کوئی خاص بات ہے کہ آپ خود آئے ہیں ورنہ آپ کسی نوکر کو بھی بھجوا سکتے تھے۔میں نے دروازہ کھولنا چاہاتو مجھے یکدم خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کوئی مصیبت آئی ہو۔یہ تین چیزیں میرے پاس تھیں ایک تلوار