خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 121 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 121

خطبات مسرور جلد 14 121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 اس نے کوئی تحریر وغیرہ تولی نہیں تھی کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ قاضی صاحب کی ذات ہی کافی ہے۔مگر قاضی صاحب نے کہا کہ اگر کوئی روپیہ رکھ گئے تھے تو لاؤ ثبوت پیش کرو۔کوئی رسید دکھاؤ۔کوئی گواہ لاؤ۔ا اس نے بہت یاد دلایا مگر وہ یہی کہتا رہا کہ کچھ نہیں ہے۔تمہارا دماغ چل گیا ہے۔تم نے کبھی پیسہ نہیں دیا۔آخر اس نے بادشاہ کے پاس شکایت کی۔بادشاہ نے کہا کہ عدالت کے طور پر تو میں تمہارے حق میں کچھ نہیں کر سکتا۔تمہارے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ کوئی تحریر نہیں ہے گواہ نہیں ہے ثبوت نہیں ہے۔ہاں ایک ترکیب تمہیں بتا دیتا ہوں۔اگر تم سچے ہو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔فلاں دن میر اجلوس نکلے گا اور قاضی بھی اپنی ڈیوڑھی کے آگے موجود رہے گا۔اس دن بادشاہ سڑکوں پر شہر میں دورہ کرے گا۔تم بھی کہیں اس کے پاس کھڑے ہو جانا۔میں تمہارے پاس پہنچ کر تمہارے ساتھ بے تکلفی سے بات شروع کروں گا کہ تم مجھے ملنے کیوں نہیں آئے ؟ اور اتنے عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی اور تم مجھے یہ کہنا کہ کچھ پریشانیاں سی تھیں۔اس لئے حاضر نہیں ہو سکا۔اس شخص نے ایسا ہی کیا اور جلوس کے دن قاضی صاحب کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔بادشاہ آیا تو بادشاہ نے قاضی کے بجائے اس شخص سے مخاطب ہو کر بات شروع کر دی اور کہا تم چلے گئے، عرصے سے ملاقات نہیں ہوئی۔اس نے اپنے سفر کا حال بتایا۔پھر بادشاہ نے پوچھا۔واپسی پر کیوں نہیں ملے ؟ اس نے جواب دیا کہ یونہی بعض پریشانیاں تھیں، کچھ وصولیاں وغیرہ کرنی تھیں۔بادشاہ نے اسے کہا نہیں نہیں، تمہیں ضرور ہمیں ملنا چاہئے تھا۔جلدی جلدی مجھے ملنے آیا کرو۔جب بادشاہ کا جلوس گزر گیا تو قاضی صاحب نے اسی شخص سے کہا کہ میاں ذرا بات تو سنو۔تم اس دن آئے تھے اور کسی امانت کا ذکر کرتے تھے۔میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں یادداشت کام نہیں کرتی۔کچھ اتا پتا بتاؤ تو مجھے یاد آئے۔اس نے پھر وہی باتیں دہرادیں جو پہلے قاضی سے کر چکا تھا۔اس پر قاضی صاحب کہنے لگے اچھا اچھا فلاں قسم کی تھیلی تھی، وہ تمہاری تھی۔وہ تو پڑی ہوئی ہے۔لے جاؤ آ کے اور لا کر روپیہ اسے دے دیا۔تو یہ قصہ سنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی مخالفت سے کیا ڈرنا۔کوئی بڑے سے بڑا جرنیل بھی تو تلواروں اور گولیوں وغیرہ سے ہی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر یہ ساری چیزیں ہمارے خدا کی ہیں۔اگر وہ کہے کہ اس طرف وار نہ کرو تو کون کر سکتا ہے۔پس بندے کو اللہ تعالیٰ سے دوستی کرنی چاہئے، اس سے محبت کرنی چاہئے۔ڈر سے یا مرنے مارنے سے کام نہیں بنتا۔ترقی کی یہی راہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ میں دے دے اور جس طرف وہ لے جانا چاہے اس طرف چلتا جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 15 صفحہ 274-275) ایک سچے مومن کی مثال کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے مومن کی مثال سچے دوست