خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد 14 120 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 اس پر اسی مصاحب نے اس کی برائیاں شروع کر دیں۔کہنے لگا شکل دیکھئے کتنا کالا منہ ہے۔نیلے پاؤں ہیں اس سے بھی زیادہ اور کیا اس کی برائی ہو سکتی ہے کہ الٹالٹکا ہوا ہے جیسے کسی نے پھانسی پر لٹکایا ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے چونکہ ہر شئے کی خوبیاں بھی ہوتی ہیں، خامیاں بھی ہوتی ہیں، برائیاں بھی ہوتی ہیں تو اس موقع پر مصاحب نے اس کی تمام برائیاں جو طبی طور پر تھیں وہ بھی بیان کر دیں۔پاس بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کہا کہ یہ کیا ہے۔کل اس وقت تم تعریفیں کر رہے تھے، آج اس کی برائیاں کر رہے ہو۔کم از کم سچ تو بولا کرو۔تو کہنے لگا کہ میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 10 صفحه 77-78) آجکل کی مسلمان دنیا میں عموماً یہی کچھ دیکھتے ہیں اور ان کو دیکھ کر ہمیں پھر سبق سیکھنا چاہئے۔کیریکٹر کے لحاظ سے، کردار کے لحاظ سے، سب سے زیادہ مضبوط کردار تو مسلمان کا ہونا چاہئے لیکن بد قسمتی سے سب سے زیادہ کردار کے لحاظ سے گرے ہوئے یہی لوگ ہیں۔سچائی پر قائم ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو تا یہ تو خوشامد اور جہاں مفاد دیکھتے ہیں اسی طرف الٹ جاتے ہیں چاہے وہ لیڈر ہوں یا چاہے عوام الناس ہوں۔سچائی پر قائم ہونے کا تقاضا تو یہ ہے کہ صحیح اور غلط کو سامنے رکھ کر پھر اپنی رائے قائم کی جائے اور صحیح مشورہ دیا جائے۔پھر یہ بھی ایک اور واقعہ ہے۔اس کو بیان کرتا ہوں۔اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق ہی حقیقت میں مسائل کا حل نکالتا ہے اور یہ تعلق تقویٰ سے بڑھتا ہے اور پھر ہم احمدی جن کا یہ دعوی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر ہم نے صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنی ہے تو ہمیں اس زندگی گزارنے کے لئے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی دیکھنا ہے، اسی سے تعلق قائم کرنا ہے۔ہماری کامیابی کبھی دنیاوی باتوں سے نہیں ہو سکتی۔پس اگر ہم میں تقویٰ اور خوف الہی ہو ، اگر ہم تقویٰ اور خوف الہی اپنے اندر پید ا کریں تو پھر ہی ہماری کامیابیاں ہیں اور جب یہ صورت ہو گی تو پھر فرشتے ہماری راہ ہموار کرتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ۔پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔بہت سارے حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دنیادار کا دنیا دار سے تعلق جب اسے فائدہ پہنچا سکتا ہے تو خدا تعالیٰ کا تعلق تو اس سے ہزاروں لاکھوں گنا بڑھ کر نفع پہنچانے والا ہے۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک قصہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص کسی سفر پر جانے لگا تو اس نے اپنا کچھ روپیہ قاضی کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا۔عرصے کے بعد واپس آکر اس نے جب روپیہ مانگا تو قاضی کی نیت بدل گئی اور اس نے کہا میاں عقل کی دوا کرو کون سا روپیہ اور کیسی امانت۔میرے پاس تم نے کب روپیہ رکھوایا تھا۔