خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد 14 119 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 رکھ لے۔اس پر وہ اپنے باپ کے پاس گیا۔باپ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے گلے لگالیا اور نوکروں سے کہا خوب موٹا تازہ بچھڑ الا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھائیں اور خوشی منائیں۔جب اس کا دوسرا بیٹا آیا اس کو بھی دولت دی تھی اور وہ اپنا کاروبار بڑا اچھا کر رہا تھا تو اسے یہ بات بہت بری لگی کہ جو سب کچھ لٹا کر آگیا ہے اس کی اتنی خاطر داری ہو رہی ہے اور اپنے باپ کو اس نے کہا کہ میں اتنے برس سے تمہاری خدمت کر رہا ہوں اور کبھی تمہاری حکم عدولی نہیں کی مگر تم نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی مجھے نہیں دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی منالو۔لیکن جب تمہارا یہ بیٹا آیا ہے جس نے تمہارا مال عیش و عشرت میں ضائع کر دیا اس کے لئے تو نے پلا ہوا بچھڑ اذبح کروا دیا۔باپ نے کہا کہ تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور میر اجو کچھ ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن تیرے اس بھائی کے آنے پر اس لئے خوشی منائی گئی کہ یہ مردہ تھا اب زندہ ہوا ہے۔کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔پس جو شخص کسی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے جب وہ غلطی کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور جاتا ہے، اس کے آگے جھکتا ہے اور اپنے قصور کا اعتراف کرتا ہے اور اعتراف کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کرتا ہے تو یقینا اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور پہلے سے زیادہ اس پر رحم کرتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحه 375) پس ایک مومن کو بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپناتے ہوئے جہاں وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے سے یہ سلوک کرے تو ان صفات کو اپناتے ہوئے جہاں بھی وہ دیکھیں کہ ان کے جو اپنے بھائی ہیں جنہوں نے قصور کئے ہوئے ہیں، اگر وہ سچے دل سے معافی مانگنے آتے ہیں اور قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں تو اسے ان سے صرف نظر کرنی چاہئے۔اس کے ساتھ ہی ان کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے جو معافی نہیں بھی مانگ رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بھی اور ہماری بھی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہم سے صرف نظر کرے۔انسان کا کردار ہر حالت میں مضبوط ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ کبھی ادھر ہو گئے اور کبھی ادھر ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک راجہ نے ایک دفعہ بینگن کھائے تو اسے بہت ہی مزہ آیا۔بہت سے لوگوں نے قصہ سنا ہوا ہے۔وہ جب دربار میں آیا تو کہنے لگا کہ بینگن کیا ہی اچھی چیز ہے۔اس کا ایک مصاحب تھا اس نے بھی بینگن کی تعریف شروع کر دی۔کہنے لگا اور تو اور اس کی شکل ہی دیکھئے کیسی عمدہ شکل ہے۔سر تو ایسا ہے جیسے کسی پیر نے سبز پگڑی باندھی ہوئی ہو۔نیلگوں لباس ہے تو آسمان کی رنگت کو مات کر رہا ہے۔پودے کے ساتھ لٹکا ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی شہزادہ جھولا جھول رہا ہو۔ایسی ایسی تعریفیں کیں۔طبی طور پر جتنی اس کی خوبیاں تھیں ساری کی ساری گن گن کے بیان کر دیں۔یہ باتیں سن کر راجہ کو شوق پیدا ہوا اور اس نے کچھ دن بینگن ہی کھانا شروع کر دیئے۔بینگن چونکہ گرم ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے حدت پیدا کی بیمار ہو گئے۔تو راجہ نے ایک دن کہا بینگن بہت بری چیز ہے۔