خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 118

خطبات مسرور جلد 14 118 خطبه جمعه فرمودہ مور محد 26 فروری 2016 چونکہ اس پیر کی حقیقت جانتا تھا اس لئے ٹلاتا رہتا تھا۔آخر ایک دن جب بادشاہ پیر کے پاس گیا تو وزیر کو بھی ساتھ لیتا گیا۔پیر صاحب نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ بادشاہ سلامت ! دین کی خدمت بڑی اچھی چیز ہے۔سکندر بادشاہ نے دین اسلام کی خدمت کی اور وہ اب تک مشہور چلا آتا ہے۔یہ میں پہلے بھی ایک دفعہ کسی اور حوالے سے بیان کر چکا ہوں۔تو یہ سن کر وزیر نے کہا کہ دیکھئے حضور ! پیر صاحب کی ولایت کے ساتھ ان کو تاریخ دانی کا بھی بہت ملکہ ہے۔سکندر تو اسلام سے پہلے گزرا ہے اس کے بارے میں پیر صاحب باتیں کر رہے ہیں۔یعنی آپ کے یہ پیر صاحب صرف ولی اللہ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تو بڑے تاریخ دان بھی لگتے ہیں۔نئی تاریخ انہوں نے بنا دی۔ی ہے۔اس پر بادشاہ کو اس پیر سے نفرت ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ قصہ سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ علم مجلس بھی نہایت ضروری ہے۔جب تک انسان اس سے واقف نہ ہو دوسروں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح آداب مجلس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔مثلاً ایک مجلس مشورے کی ہو رہی ہو اور کوئی بڑا عالم ہو مگر اس مجلس میں جا کر سب کے سامنے لیٹ جائے تو کوئی اس کے علم کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کی نسبت لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔پس یہ نہایت ضروری ہے کہ جو بھی مجلس ہو ، جس قسم کی مجلس ہو مبلغ کو ، مربی کو جب وہ ایسی مجلس میں جائے اس کا علم ہونا ضروری ہے۔ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ وہ جغرافیہ، تاریخ، حساب، طب، آداب گفتگو، آداب مجلس و غیرہ علوم کی اتنی اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو جتنی مجلس شرفاء میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے۔اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔تھوڑی سی محنت سے یہ بات حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے لئے ہر علم کی ابتدائی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔(ماخوذ از ہدایات زریں۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 584-585) اس کے علاوہ بھی آجکل ہمارے مرتبیان سے اس زمانے کے حالات کے مطابق حالات حاضرہ کے متعلق سوال کئے جاتے ہیں اور بعض دفعہ کیونکہ اخبار وغیرہ با قاعدہ نہیں پڑھتے، علم نہیں ہوتا یا خبریں نہیں سنتے ، علم نہیں ہو تا یا کسی بارے میں کسی معاملے کی گہرائی میں نہیں گئے ہوتے اس لئے بعض دفعہ جو دنیا دار لوگ ہیں وہ پھر برا اثر بھی لے لیتے ہیں۔بعض جگہ سے ایسی شکایتیں آتی بھی ہیں۔اس لئے حالات حاضرہ سے واقفیت اور جس مجلس میں جائیں اس کی ضروری واقفیت حاصل کر کے جانا چاہئے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک مثال بیان کی ہے۔فرماتے تھے کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔اس نے اپنا مال ان میں بانٹ دیا۔چھوٹا بیٹا اپنا سارا مال لے کر دور دراز چلا گیا اور وہاں اس نے سارا مال بد چلنی میں ضائع کر دیا۔آخر وہ ایک شخص کے ہاں چرواہے کے طور پر ملازم ہو گیا۔سب کچھ لٹ گیا آخر مزدوری کرنی پڑی۔اس حالت میں اُس نے خیال کیا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی بڑی کھلی ملتی ہے۔افراط سے ملتی ہے۔مگر میں یہاں مزدوری کرنے کے باوجو د بھو کا مر رہا ہوں۔کیوں اس کے پاس جا کر یہ نہ کہوں کہ مجھے بھی اپنے مزدوروں کی طرح