خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 117

خطبات مسرور جلد 14 117 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 زمانے میں اسلام کی تعلیم ہی حقیقی تعلیم ہے جو حقیقی امن پیدا کر سکتی ہے۔پس دنیا کا جو عدم علم ہے یا علم کا نہ ہوناجو ہے وہ علم دلانے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں کوشش کرنی چاہئے۔بعض لوگ معمولی قربانی کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ کر لیا ہے یا بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر قربانی کے اپنے خیالات میں قربانی کرنے والے بن جاتے ہیں یا دوسروں پر احسان کرنے والے بن جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی نے کسی شخص کی دعوت کی اور اپنی طاقت کے مطابق اس کی تواضع میں کوئی کسر نہ اٹھار کھی۔جب مہمان جانے لگا تو اس سے گھر والا جو تھا معذرت کرنے لگا کہ میری بیوی بیمار تھی، کچھ اور بھی مجبوریاں بتلائیں۔اس لئے میں آپ کی پوری طرح خدمت نہیں کر سکا۔امید ہے کہ آپ معاف کریں گے ، در گزر کریں گے۔یہ سن کر مہمان کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں تم کس غرض سے کہہ رہے ہو۔تمہارا منشاء یہ ہے کہ میں تمہاری تعریف کروں اور تمہارا احسان مانوں۔اب یہ مہمان کے خیالات ہیں۔لیکن مہمان صاحب کہنے لگے تم مجھ سے یہ امید نہ رکھو بلکہ تمہیں میرا احسان ماننا چاہئے۔میزبان نے کہا میرا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ آپ کے اوپر کوئی احسان جتاؤں۔میں واقعی شرمسار ہوں کہ پوری طرح آپ کی خدمت نہیں کر سکا۔اگر آپ کا مجھ پر کوئی احسان ہے تو وہ مجھے بتا دیں میں اس کا بھی شکریہ ادا کر دیتا ہوں۔اس پر مہمان نے کہا کہ خواہ تم کچھ کہو میں تمہارے دل کی منشاء کو خوب سمجھتا ہوں۔یعنی دلوں کا حال بھی جاننے لگے۔مہمان یہ کہنے لگا لیکن یاد رکھو کہ تم نے مجھے کھانا ہی کھلایا ہے۔اس سے زیادہ تم نے میرے پر اور کیا احسان کیا ہے ؟۔میرا تم پر بہت بڑا احسان ہے۔تم ذرا اپنے کمرے کو دیکھو۔یہ کمرہ جہاں مجھے بٹھایا ہو ا ہے ، ڈرائنگ روم، اس میں کئی ہزار کا سامان پڑا ہوا ہے۔جب تم میرے لئے کھانا لینے اندر گئے تھے میں چاہتا تو دیا سلائی دکھا کے یہ سب کچھ جلا دیتا۔تم ہی بتاؤ کہ اگر میں آگ لگا دیتا تو ایک پیسے کا بھی سامان باقی رہ جاتا ؟ مگر میں نے ایسا نہیں کیا۔مہمان کہنے لگا کیا میر ا تم پر یہ احسان کم ہے۔یہ سن کر گھر والے نے کہا کہ واقعی آپ نے بہت بڑا احسان کیا ہے۔میں اس کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میر اگھر نہیں جلایا۔تو دیکھ لو ایک انسان ایسا بھی ہوتا ہے کہ بجائے محسن کا احسان پہچاننے اور شکریہ ادا کرنے کے یہ سمجھتا ہے کہ میں احسان کر رہا ہوں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 13 صفحہ 592) پس ایک مومن کو حقیقی طور پر احسان کرنے والے کا شکر گزار ہونا چاہئے، نہ کہ اس شخص کی طرح احسان فراموش۔ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے مربیان کو بھی نصیحت فرمائی ہے اور ایک مثال دی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمایا کرتے تھے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ حضرت صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا جو کسی پیر کا بڑا معتقد تھا اور اپنے وزیر کو کہتارہتا تھا کہ میرے پیر سے ملو۔وزیر