خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 116
خطبات مسرور جلد 14 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ دوسرے زمانے کے ہیں جب ملک کی حکومت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی، لوٹ مار ہو رہی تھی اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی کوشش ہمیشہ یہی رہتی تھی کہ امن قائم ہو اور وہ مسلمانوں کے ساتھ بھی ایک حد تک اچھا سلوک کرتے تھے۔آپ اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے وزراء میں مسلمان بھی تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد یعنی ہمارے دادا بھی ان کے جرنیلوں میں سے تھے اور کئی مسلمان بھی بڑے بڑے عہدوں پر تھے۔پس اس امن کو دیکھتے ہوئے جو ان کی وجہ سے ملک کو حاصل ہوا تھا اور اس فساد کو یاد کر کے جو ان سے قبل پایا جاتا تھا ان کی موت کا سب کو صدمہ تھا اور لوگ رور ہے تھے۔چوہڑے نے اس کہرام کی وجہ دریافت کی تو کسی نے اسے بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گئے ہیں۔وہ بڑی حیرت سے اس شخص کا منہ دیکھنے لگا اور دریافت کرنے لگا کہ لوگ ان کی وفات پر اتنے بے تاب کیوں ہیں۔میرے باپ جیسے لوگ مر گئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ کس شمار میں ہیں۔یہ لطیفہ بیان کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جسے کسی چیز کی قدر ہوتی ہے وہی اس کے نزدیک بڑی ہوتی ہے۔اس چوہڑے کا باپ اس سے حسن سلوک کر تا تھا اس لئے وہ اسے پیارا تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا حسن سلوک گولا کھوں سے ہو مگر چونکہ وہ ان لاکھوں میں سے نہ تھا، نہ اس کی نظر اتنی وسیع تھی کہ وہ سمجھتا کہ ملک کا فائدہ اور امن و امان بڑی چیز ہے۔انفرادی فائدے کی اس کے مقابل پر کوئی حقیقت نہیں۔اس لئے اس کا یہی خیال تھا کہ اصل چیز جو قدر کی ہے میر اباپ تھا جس کی مجھے قدر کرنی چاہئے۔جب وہ فوت ہو گیا تو پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہو گیا تو کیا ہوا۔(ماخوذ از الفضل مورخہ 6 جون 1952ء جلد 24/6 نمبر 135 صفحہ 5) تو دنیا میں اپنی ضرورت کی اہمیت کی وجہ سے بعض چھوٹی چیزیں بھی بڑی ہوتی ہیں اور بعض بڑی چیزوں کو عدم علم کی وجہ سے انسان نظر انداز کر دیتا ہے۔بچے کو اگر قیمتی سے قیمتی ہیر ابھی دے دیا جائے تو وہ اس کی قدر کیا کرے گا۔پس ایک مومن کو اپنے رویوں سے، اپنے سلوک سے، دوسروں کے کام آنے سے، دوسروں پر احسان کرنے سے اپنی قدر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کی صرف محدود قدر نہ ہو کہ اس کے قریبی ہی صرف اس پر رونے والے ہوں بلکہ جہاں وہ رہتا ہے، جس معاشرے میں رہتا ہے وہاں اس کی قدر قائم ہو۔ہر ایک کا اپنا اپنا دائرہ ہے۔اسی دائرے میں کسی احمدی کا تعارف اور نیک تعارف صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا یا اسے فائدہ نہیں پہنچا تا بلکہ جماعت کی نیک نامی کا باعث ہوتا ہے اور یوں تبلیغ کے راستے بھی کھلتے ہیں۔دنیا کو پتا چلتا ہے۔اگر ایک احمدی اپنا اثر ڈالنے والا ہو تو دنیا کو پتا چلے گا کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے اور دنیا کی امن و سلامتی کے لئے اس