خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد 14 115 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 معلوم نہ کرلے عورت کو چین نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگو ٹھی بنوائی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔سونے کی بڑی خوبصورت انگوٹھی تھی۔اس نے تنگ آکر اپنے گھر کو آگ لگادی۔لوگوں نے پوچھا کچھ بچا بھی ؟ اس نے کہا سوائے اس انگوٹھی کے کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے پوچھا کہ بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی یہ تو بہت خوبصورت ہے۔تو وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم مجھ سے پہلے پوچھ لیتی تو میر اگھر کیوں جلتا۔تو حضرت مصلح موعودؓ بھی فرما رہے ہیں کہ یہ عادت صرف عورتوں تک مخصوص نہیں ہے بلکہ مردوں میں بھی ہے۔بلاوجہ کے سوال جواب بھی بعض دفعہ کر لیتے ہیں۔السلام علیکم کے بعد پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو ؟ کہاں جاؤ گے ؟ آمدنی کیا ہے ؟ بھلا دوسرے کو اس معاملے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر آپ مغربی قوموں کی یہ مثال دیتے ہیں کہ انگریزوں میں یہ کبھی نہیں ہو تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ تو کہاں ملازم ہے؟ تعلیم کتنی ہے؟ تنخواہ کیا ملتی ہے ؟ وہ کریدنے کا خیال نہیں کرتے۔(ماخوذ از مستورات سے خطاب۔انوار العلوم جلد 15 صفحہ 397) پس لغو صرف ایسی چیز نہیں جو دوسرے کو نقصان پہنچانے والی ہو بلکہ ہر بے فائدہ بات لغو بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ اس کی یوں بھی وضاحت فرماتے ہیں کہ " ایسا فعل صادر ہو جس سے کوئی خاص حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔" (ماخوذ از اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 349) یعنی وہ باتیں لغو ہیں جن سے کوئی خاص حرج اور نقصان بھی نہیں پہنچتا۔یہ اس کا مطلب ہے۔پس مومن کے لئے یہ شرط ہے کہ اس کی گفتگو ہمیشہ بامقصد ہو اور ہر قسم کی لغویات سے پر ہیز ہو۔لیکن ہم جائزہ لیں تو دیکھتے ہیں کہ بہت سارے لوگ بلا وجہ بعض باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اب بعض اور سبق آموز مثالیں جو مختلف جگہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں اور جنہیں حضرت مصلح موعودؓ نے پیش فرمایا ہے وہ پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی چوہڑ الاہور کے پاس سے ایک مرتبہ گزرا۔گاؤں کا رہنے والا تھا۔بوجھ اٹھانے کے کام کیا کرتا تھا یا گند اٹھانے کے کام کیا کرتا تھا۔اس نے دیکھا کہ شہر میں کہرام مچ رہا ہے۔بڑا شور مچا ہوا ہے۔ہندو مسلمان مرد عورت سب رو ر ہے ہیں۔اس نے کسی سے اس کی وجہ دریافت کی تو اسے بتایا گیا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ مر گیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں یوں تو سکھوں کی حکومت بہت بدنام ہے۔اس زمانے میں بعض ایسے بھی راجے آئے تھے جو بڑے بدنام تھے مگر اس میں شبہ نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی میں نے بارہا سنا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں امن قائم ہو گیا تھا اور اس نے خرابیوں کو بہت حد تک دُور کر دیا تھا۔مسلمانوں پر سکھوں کے مظالم کے جو