خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 114

خطبات مسرور جلد 14 114 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 26 فروری 2016ء بمطابق 26 تبلیغ 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا میں بہت سی باتیں بہت سے لوگ لغو اور بلاوجہ کرتے ہیں۔بعض لوگ مذاق میں کسی کو کوئی لغو بات کہہ دیتے ہیں جس سے جھگڑے اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ایسی باتیں مجلسوں میں کی جاتی ہیں جو بے فائدہ ہوتی ہیں۔بات برائے بات صرف کی جاتی ہے اور بعض دفعہ ایسی طنزیہ باتیں بھی ہو جاتی ہیں جس سے دوسرے کو تکلیف بھی پہنچتی ہے یا ایسی بے فائدہ باتیں ہوتی ہیں جو کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچار ہی ہو تیں۔صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔لغو کے لغوی معنی فضول اور بے فائدہ گفتگو کے ہیں یا بغیر سوچے سمجھے بولنے کے ہیں۔ناکارہ اور بیوقوفوں والی باتیں کرنے کے ہیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے مومنوں کو ایسی باتوں سے روکا ہے جو لغو ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے ایک مثال بیان فرماتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔فرمایا کہ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا ( الفرقان: 73)۔مومن کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ جب وہ کوئی لغو دیکھتا ہے تو اس کے پاس سے گزر جاتا ہے۔لیکن اب کہتے ہیں کہ نہایت افسوسناک بات ہے۔مثال تو یہ عورتوں کی دی ہے کہ عورت ہمیشہ لغویات کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔گو کہ آجکل مر دوں کا بھی یہ حال ہے۔مثلاً بلا وجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہیں کہ یہ کپڑا کتنے کا لیا ہے۔یہ زیور کہاں سے بنوایا ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔یہ بھی لغویات ہی ہیں۔یہ باتیں ایسی ہیں جو صرف دنیاداری کی باتیں ہیں جن میں کوئی فائدہ نہیں اور بعض دفعہ ساتھ بیٹھی ہوئی عورتوں پہ اس کے بُرے اثرات بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔آپؐ فرماتے ہیں کہ جب تک اس کی ساری ہسٹری