خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 113
خطبات مسرور جلد 14 113 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 کہتی ہیں کہ مجھ سے بھی پوچھا تم بھی پڑھتی ہو کہ نہیں۔رسم و رواج کے سخت مخالف تھے۔کہتی ہیں کہ اول تو ہمارے خاندان میں رسم و رواج کا تصور نہیں لیکن اس کا ذرا سا بھی امکان محسوس کرتے تو طبیعت پر ناگوار گزرتا اور وہاں سے ناراض ہو کر اٹھ کر چلے جاتے۔خدا پر بڑا تو کل تھا۔ان کی آخری بیماری بھی کافی لمبی تھی، تکلیف دہ تھی لیکن بڑے صبر اور شکر سے انہوں نے بیماری کو کاٹا ہے۔ان کی عبادت کے بارے میں تو خاص طور پر ان کے ملنے والوں اور ان کے بچوں، ساروں نے ہی لکھا ہے کہ ایسا نظارہ تھا اور اس طرح عبادت کیا کرتے تھے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی روح پگھل رہی ہو۔اور خلافت سے بھی ان کا بے انتہا تعلق تھا۔یہاں بھی جب آیا کرتے تھے تو دفتر میں اس انتظار میں ہوتے تھے کہ کبھی میں دفتر سے باہر آؤں تو سلام کریں اور بعض دفعہ انتظار میں باوجود بڑی عمر کے اور کمزوری کے کافی کافی دیر کھڑے رہا کرتے تھے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت ساری خوبیاں دی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ان کی اولاد کو ان کی دعاؤں کا بھی وارث بنائے اور ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 11 / مارچ 2016ء تا 17 / مارچ 2016ء جلد 23 شمارہ 11 صفحہ 05 تا 08)