خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 112

خطبات مسرور جلد 14 112 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 گزارنے کے بعد آپ دوبارہ ربوہ آئے۔صدر انجمن احمدیہ کے مختلف شعبہ جات میں اعزازی طور پر کام کرتے رہے۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں بھی لمبا عرصہ خدمت بجالاتے رہے۔1986ء میں جرمنی منتقل ہو گئے اور وفات تک پھر وہیں جرمنی میں رہے۔جرمنی میں آپ ہائیڈل برگ کی جماعت کے صدر کے طور پر کام کرتے رہے۔مجلس انصار اللہ کے زیر انتظام جرمنی کے چار ریجنز میں سے ایک ریجن کے ناظم علاقہ کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔بحیثیت ناظم علاقہ خلافت رابعہ میں آپ کو اول انعام بھی ملا۔آپ کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔دو بیٹے جلال شمس صاحب اور منیر احمد جاوید صاحب واقف زندگی ہیں۔ایک داماد حنیف محمود صاحب بھی ربوہ میں مربی سلسلہ ہیں۔نائب ناظر اصلاح و ارشاد ہیں، واقف زندگی ہیں۔آپ کے بیٹے ڈاکٹر جلال شمس صاحب جو یہاں ٹرکش ڈیسک کے انچارج ہیں، لکھتے ہیں کہ ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ خلیفہ وقت اگر موجود ہیں یا جب وہ یہاں آئے ہوئے ہیں تو خلیفہ وقت کے پیچھے نماز ادا کریں۔نہایت عبادت گزار تھے اور انداز دعا بھی بڑا خو بصورت تھا۔دعا کے وقت اس قدر درد ہوتا تھا اور اتنی آہ وزاری ہوتی تھی کہ یوں لگتا تھا کہ بس ابل ابل کے جذبات باہر آرہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری ہو رہی ہے۔کہتے ہیں کہ ان کے بھائی منیر جاوید صاحب چھ ماہ کے تھے تو ایک دفعہ ان کو نمونیہ ہو گیا۔بیمار ہو گئے۔بچنا مشکل تھا تو ہمارے ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا۔کہتے ہیں کہ انہوں نے میری والدہ نے بھی اور والد نے بھی اس وقت بڑی گڑ گڑا کر دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ اس بچے کو وقف کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے دعائیں سنیں لیکن ایک وقت میں ایسی حالت آگئی تھی کہ ان کی والدہ نے کہا کہ بچے کی حالت مجھے تو نزع کی لگ رہی ہے۔آپ کہاں جارہے ہیں ؟ نماز کا وقت تھا۔باجماعت نماز پڑھنے مسجد جارہے تھے۔کہتے ہیں اسی کے پاس جارہا ہوں جس کو صحت دینے کی طاقت ہے، اسی سے مانگنے جارہا ہوں تو ان کو اپنے خدا پر بھی اتنا یقین تھا۔سندھ میں جو جماعت کی زمینیں ہیں وہاں سے اکاؤنٹنٹ یا جب کوئی کارکن رخصت پر جاتا تو اس کی جگہ آپ رضاکارانہ طور پر خدمت سر انجام دیتے۔وصیت آپ نے خود بھی بہت شروع میں کر لی تھی اور نوجوانوں کو وصیت کرانے کا بڑا شوق تھا۔وصیت فارم بھی اپنے پاس رکھتے تھے اور تلقین کیا کرتے تھے کہ رسالہ الوصیت پڑھو اور وصیت کرو۔یہ لکھتے ہیں کہ اپنی نصف اولا د چار بیٹوں میں سے دو بیٹوں کو وقف کیا اور دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کو وقف زندگی کو دیا۔ان کی بیٹی نے غالباً یہ لکھا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت نہ صرف تمام عمر آپ کی روزانہ روٹین رہی بلکہ تمام بچوں کو بھی اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بھی نماز اور تلاوت قرآن کریم کی تلقین کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ روزانہ کا معمول تھا۔آپ کہا کرتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا تین بار مطالعہ کیا ہے اور بیٹی