خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد 14 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 جماعت تھی کی زندگی میں آنے والا تھا یعنی جس نے صحابہ کے وقت میں آنا تھا یہ تدبیر اختیار کی کہ پہلے اسے جماعت کا خلیفہ بنا کر ان سے عہد اطاعت لے لیا اور ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیئے جو اس کے متعلق بتائی گئی تھیں اور جب حقیقت جماعت پر روز روشن کی طرح کھل گئی تو پھر اسے بھی یعنی خلیفتہ المسیح کو بھی یا مصلح موعود ہونے والے کو بھی اس حقیقت سے بذریعہ آسمانی اخبار کے علم دے دیا تا آسمان اور زمین دونوں کی گواہی جمع ہو جائے اور مومنوں کی جماعت کفر و انکار کے داغ سے بھی محفوظ کر دی جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 25 صفحه 93 تا 95 خطبه بیان فرموده 4 فروری 1944ء) اللہ تعالیٰ اس زمانے میں بھی سب کے ایمان کو سلامت رکھے۔ہر احمدی کے ایمان کو سلامت رکھے اور کفر و انکار کے داغ سے ہمیشہ محفوظ ر کھے۔احباب جماعت کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم و معرفت کے کلام سے بھی زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہئے جو اردو میں بھی ہے اور باقی زبانوں میں بھی کچھ لٹریچر ہے، اس کو پڑھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اس کی سب کو توفیق دے۔ابھی نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم صوفی نذیر احمد صاحب ابن مکرم میاں محمد عبد اللہ صاحب مرحوم کا ہے۔آپ 17 فروری کو جرمنی میں تقریباً 93 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔پارٹیشن سے قبل یہ فوج میں ملازمت کرتے تھے اور پارٹیشن کے بعد پھر حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم پر قائم ہونے والی فرقان فورس میں بھی شامل ہو کر بطور انسٹر کٹر اپنے فرائض بجا لاتے رہے۔اس کے بعد پھر کراچی میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔پھر آپ نے محمد آباد سٹیٹ سندھ میں رہائش اختیار کرلی اور وہاں اپنا ذاتی کاروبار شروع کر دیا۔لمبا عرصہ وہاں سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی بھی توفیق پائی۔اس کے بعد پھر یہ کچھ عرصہ کے لئے ربوہ منتقل ہو گئے۔کاروبار میں ان کے بھائی بھی شاید ان کے ساتھ ہی تھے۔جب یہ ربوہ آگئے تو بھائی کو بعض کاروباری مشکلات پیش آئیں۔انہوں نے ان کو کہا کہ آپ سندھ آجائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ اب میں ربوہ میں رہوں گا۔یہیں آگیا ہوں۔اس پر ان کے بھائی نے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں لکھا کہ میرے بھائی کو واپس سندھ آنے کی تلقین فرمائیں۔چنانچہ حضور ، خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کر سندھ جانے کی تلقین کی۔ربوہ میں محلہ کے صدر جماعت بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور یہ ہمارے بہت مخلص کارکن ہیں۔تو اس پر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے فرمایا کہ سندھ میں بھی ہمیں مخلص کارکنان کی ضرورت ہے۔اس طرح پھر صوفی صاحب واپس سندھ چلے گئے اور خود ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔صرف خلیفۃ المسیح کے ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے انہوں نے اپنار بوہ کا کاروبار بند کیا۔فیملی کو بھی وہیں چھوڑا اور سندھ چلے گئے۔ایک لمبا عرصہ سندھ