خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد 14 110 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 ہے۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنی وفات سے پہلے لکھا کہ مرزا محمود نے ہمارے متعلق جو الہام شائع کیا تھا وہ بالکل پورا ہو گیا ہے اور ہم واقعہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جیسا کہ الہام میں خبر دی گئی تھی میرے مقابلہ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔میں اس کلام الہی کی مثالیں جو مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نازل فرمایا آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت اسی قدر بیان کرتا ہوں۔بعض اور بھی بیان کی ہیں۔یہاں تو میں نے دو بیان کی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ میرا ارادہ ہے کہ تحدیث نعمت کے طور پر ایک مختصر رسالہ میں کسی قدر تفصیل کے طور پر اپنے بعض الہاموں اور کشوف اور رؤیا کا ذکر کر دوں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 25 صفحہ 93) اب تو یہ کتاب کی صورت میں چھپی ہوئی ہے۔کافی ضخیم کتاب ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مرتبہ مجھ پر اپنے غیب کو ظاہر کر کے اس پیشگوئی کو سچا کر دیا ہے کہ مصلح موعود خد اتعالیٰ کی روح حق سے مشرف ہو گا۔یہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس نے مجھ پر ظاہر فرمائے۔لوگ کہتے ہیں کہ اس میں کیا حکمت تھی کہ دوست تو پہلے ہی مجھے ان پیشگوئیوں کا مصداق قرار دیتے رہے اور میں نے اب ان پیشگوئیوں کا مصداق ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے ؟ میں کہتا ہوں اس میں حکمت وہی ہے جو قرآن کریم کہتا ہے کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ ایمانكُمْ کہ اللہ تعالیٰ جب نبی کی بعثت کے بعد موعود کھڑا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی قائم کردہ جماعت کفر کا شکار ہو جائے اور ان کا ایمان ضائع ہو جائے۔اس لئے وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ اکثریت اسے موعود ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔پس لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کو مجھ پر پورا ہوتے دیکھا تو ایمان اور یقین میں کامل ہوئے، مزید بڑھے، ان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان بھی مزید بڑھا۔آپ فرماتے ہیں کہ میری طرف سے بعد میں اعلان ہونے اور جماعت کی طرف سے پہلے مجھے اس پیشگوئی کا مصداق قرار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو دوسری دفعہ کفر و اسلام کے امتحان میں ڈال کر ان کے ایمان کو ضائع کرنے کے لئے تیار نہ تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ دو موتیں اپنی جماعت پر وارد کرے۔پہلی موت تو وہ تھی جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ مانا۔مسیح موعود کو جھٹلایا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی کسی نیکی کی وجہ سے رحم کر کے انہیں زندہ کر دیا۔اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل فرما دیا۔انہوں نے رشتہ داروں کو چھوڑا۔تکالیف برداشت کیں لیکن اپنے ایمان کو سلامت رکھا۔اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ اس ابتلاء میں سے گزرنے والے لوگوں کی زندگی میں خدا تعالیٰ ایک ایسا موعود بھیج دے گا جس کی صداقت کے نشان اس کے دعوے کے ایک لمبے عرصے بعد ظاہر ہوں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو پھر کفر کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے اور صحابہ کو پھر کافر و منکر بنا دیا جائے۔جماعت ابتلاء میں پڑ جائے۔یہ خد اتعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مصلح موعود کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تیار کردہ