خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 109
خطبات مسرور جلد 14 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 سینٹرل جیل لاہور کو اور دوسرے احباب کو سنادی تھی۔فرماتے ہیں ابھی چند دن ہوئے انہوں نے خود بخود مجھ سے اس رؤیا کا ذکر کیا کہ میں نے دیکھا تھا کہ میں مدرسہ احمدیہ میں ہوں اور اسی جگہ مولوی محمد علی صاحب بھی کھڑے ہیں۔اتنے میں شیخ رحمت اللہ صاحب آگئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ آؤ مقابلہ کریں۔آپ کا قد لمبا ہے یا مولوی محمد علی صاحب کا۔میں اس مقابلے سے کچھ پہچکچاہٹ محسوس کرتاہوں مگر وہ زبر دستی مجھے کھینچ کر اس جگہ پر لے گئے جہاں مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہیں۔یوں تو مولوی محمد علی صاحب قد میں مجھ سے چھوٹے نہیں بلکہ غالباً کچھ لمبے ہی ہیں۔لیکن جب شیخ صاحب نے مجھے ان کے پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے یعنی شیخ صاحب کہہ اٹھے کہ میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔چنانچہ رویا میں میں دیکھتا ہوں کہ بمشکل میرے سینے تک ان کا سر پہنچتا ہے۔پھر شیخ رحمت اللہ صاحب ایک میز لائے اور اس پر ان کو کھڑ اکر دیا مگر تب بھی وہ مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔اس کے بعد انہوں نے اس میز پر ایک سٹول رکھا اور اس پر مولوی صاحب کو کھڑا کیا مگر پھر بھی مولوی صاحب مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔اس کے بعد انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے سر کے برابر کرنا چاہا لیکن وہ پھر بھی نیچے ہی رہے بلکہ مزید برآں ان کی ٹانگیں اس طرح ہوا میں لٹک گئیں گویا کہ وہ میرے مقابل پر بالکل ایک بچے کی حیثیت رکھتے ہیں اور بمشکل میری کہنیوں تک پاؤں آئے۔اب دیکھو اس میں کس طرح اس تمام مقابلہ اور پھر اس کے انجام کی بھی خبر دی گئی ہے جو مولوی محمد علی صاحب سے ہونے والا تھا۔حالانکہ اگر ابتدائے خلافت اولیٰ کے وقت کی رؤیا ہے تو اس وقت جماعت میں خواجہ کمال الدین صاحب سر اٹھا رہے تھے، نہ کہ مولوی محمد علی صاحب۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں عجیب طریق پر بعد میں پیدا ہونے والے جھگڑوں کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔چنانچہ دیکھ لو مولوی محمد علی صاحب میرے مقابلے میں اتنے نیچے ہوئے، اتنے نیچے ہوئے کہ اب ان کا سارا زور ہی اس بات کو ثابت کرنے پر صرف ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور وہی لوگ معزز ہوتے ہیں جو چھوٹے ہوں۔پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم پچانوے فیصدی ہیں اور یہ چار پانچ فیصدی ہیں اور جماعت کی اکثریت کبھی ضلالت پر نہیں ہو سکتی۔یہ پہلے مولوی صاحب کہا کرتے تھے مگر اب کہتے ہیں کہ بیشک قادیان کی جماعت زیادہ ہے اور ہم تھوڑے ہیں لیکن ان کا زیادہ ہونا ہی ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے حقیقی بندے تو تھوڑے ہوا کرتے ہیں۔یہ بالکل وہی نقشہ ہے جو اس رویا میں بتایا گیا تھا۔وہ اتنے چھوٹے ہوئے، اتنے چھوٹے ہوئے کہ اب انہیں اپنا چھوٹا ہونا ہی اپنی صداقت کی دلیل نظر آتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 25 صفحہ 72-93) پھر ایک اور رویا بلکہ الہام کا ذکر ہے۔فرمایا کہ جس وقت جماعت میں اختلاف پیدا ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام بتایا کہ لَنُمَر قَنَّهُمْ کہ ہم ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔اس وقت یہ لوگ اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے مگر اب ان کی کیا حالت ہے۔خدا نے ان کو اس پیشگوئی کے مطابق حقیقت میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا