خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد 14 108 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 اسلام کی حفاظت کی بنیاد رکھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں اسلام پر وہ تمدنی حملہ نہیں ہوا تھا جو آج کیا جارہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانے میں ایک ایسے شخص کو اپنے کلام سے سر فراز فرمائے جو روح الحق کی برکت اپنے اندر رکھتا ہو یا اپنے ساتھ رکھتا ہو جو علوم ظاہری اور باطنی سے پر ہو۔جو دشمن کے ان تمدنی حملوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تشریح اور قرآن کریم کے منشاء کے مطابق دُور کرے اور اسلام کی حفاظت کا کام سر انجام دے۔سو خدا تعالیٰ نے اپنا کام کر دیا اور میری تحریروں پر اپنی مہر تصدیق کر دی۔آپ نے فرمایا کہ جب تک خدا تعالیٰ نے مجھے نہیں کہا میں چُپ رہا اور جب خدا تعالیٰ نے بتادیا اور نہ صرف بتادیا بلکہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو بھی بتادوں تو میں بتارہا ہوں کہ یہ پیشگوئی ہر لحاظ سے مجھ پر پوری ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ نہ صرف خدا تعالیٰ نے مجھے ارشاد کیا کہ بتادوں بلکہ اپنے فضل سے ایسے حالات پیدا فرمائے جو اس پیشگوئی کی صداقت کے لئے بطور دلیل کے ہیں۔جس طرح آسمان پر چاند چمکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ارد گر دستارے پیدا کر دیتا ہے اسی طرح ان دنوں میں بہت سے لوگوں کو ایسی خواہیں آئی ہیں جن میں اس خواب کا مضمون دہر ایا گیا ہے جو میں نے دیکھی تھی۔چنانچہ میری رؤیا کے بعد ایک دوست ڈاکٹر محمد لطیف صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ایک فرشتہ میرا نام لے کر کہہ رہا ہے کہ انبیاء ورسل کے ساتھ اس کا نام لیا جائے گا۔انبیاء ورسل کے ساتھ نام لئے جانے کے وہی معنی ہیں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مشیل مسیح ہو گا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو نبی اور رسول ہیں ان کے ساتھ میرا بھی نام لیا جائے گا۔اسی طرح ایک اور دوست نے لکھا کہ رویا میں میں نے دیکھا کہ مینار پر کھڑے ہو کر آپ آلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَةُ کا اعلان کر رہے ہیں۔آلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عبده حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی الہاموں میں سے الہام ہے۔اور مینار پر اس الہام کے اعلان کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تبلیغ احمدیت کو میرے ذریعہ سے اور بھی مضبوط کر دے گا۔چنانچہ جیسے ابھی پہلے بیان بھی ہوا ہے کہ کس طرح مختلف ممالک میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تبلیغ کا کام وسیع پیمانے پر شروع ہوا اور وہی بنیادیں ہیں جن پر آج بھی آگے کام چلتا چلا جارہا ہے۔پھر آپ نے اپنے بعض رؤیا اور الہامات کا اپنی تائید میں ذکر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی سے نوازا اور اس بات کی بھی کہ اس نے اس کام کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں ہے مجھے تیار کیا ہے شہادت یہ ہے کہ مجھے ایک رؤیا ہوا جو غالباً زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا ابتدائے خلافت حضرت خلیفہ اول میں میں نے دیکھا تھا۔یہ رویا میں نے اسی وقت میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب حال سپر نٹنڈنٹ