خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 107

خطبات مسرور جلد 14 107 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دشمن چاروں طرف سے حملے کر رہے تھے محض اس بناء پر کہ آپ نے الہام کا دعویٰ کیا تھا۔آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔مجددیت کا دعویٰ نہیں تھا۔ماموریت کا دعویٰ بھی نہیں تھا۔اس وقت ایک لڑکے کی پیشگوئی ان اعلیٰ صفات کے ساتھ آپ نے بیان فرمائی۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ جب کسی کے نائب کی شہرت کا کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے آقا و مطاع کی شہرت ہو گی۔پس جب خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں یہ کہا کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا تو اس کے یہ معنی تھے کہ اس کے ذریعہ سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔اب دیکھو لو پیشگوئی کتنی واضح ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں افغانستان صرف ایسا ملک تھا جہاں کسی اہمیت کے ساتھ یا کچھ حد تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا تھا کیونکہ دو شہداء بھی تھے۔دوسرے ممالک میں صرف اُڑتی ہوئی خبریں تھیں وہ یا مخالفین کی پھیلائی ہوئی تھیں یا کسی کے ہاتھ کوئی کتاب پہنچی تو اس نے آگے کسی کو دکھا دی۔با قاعدہ جماعت کسی ملک میں قائم نہیں تھی۔خواجہ کمال الدین صاحب انگلستان گئے تھے یہاں آئے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت کا نام لینا، کہتے تھے یہ تو زہر کے برابر ہو گا اس لئے جماعت کا نام نہیں لینا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام نہیں لینا۔پس اگر انگلستان میں نام پھیلا تو خواجہ صاحب کا نام پھیلا۔جماعت کا نہیں، نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور جب حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا تو خد اتعالیٰ کے فضل سے آپ فرماتے ہیں کہ سماٹرا میں ، جاوا میں، سٹریٹس سٹلمنٹ میں، چین میں احمدیت پھیلی۔ماریشس میں، افریقہ کے دوسرے ممالک میں احمدیت پھیلی۔مصر میں، فلسطین میں، ایران میں، دوسرے عرب ممالک میں اور یورپ کے کئی ممالک میں احمدیت پھیلی۔بعض جگہ حضرت مصلح موعود کے وقت بھی جماعت کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی اور افریقہ کے ممالک میں لاکھوں میں بھی تھی۔پھر اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میں دعوے کرنے کا عادی نہیں لیکن اس کے باوجود اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ اسلام کے وہ مہتم بالشان مسائل جن پر روشنی ڈالنا اس زمانے کے لحاظ سے نہایت ضروری تھا خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق میری زبان اور میری قلم سے ایسے مضامین نکلوائے ہیں کہ میں دعویٰ کر کے کہہ سکتا ہوں کہ ان تحریروں کو اگر ایک طرف کر دیا جائے تو اسلام کی تبلیغ دنیا میں نہیں کی جاسکتی۔قرآن کریم میں بہت سے ایسے امور ہیں جن کو اس زمانے کے لحاظ سے لوگ سمجھ نہیں سکتے تھے جبتک کہ دوسری آیات سے ان کی تشریح نہ کر دی جاتی اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میرے ذریعہ سے ان مشکلات کو حل کیا۔آپ فرماتے ہیں کہ اسلام اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو ضعف اور کمزوری کا دور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پھر اللہ تعالیٰ نے