خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 106

خطبات مسرور جلد 14 106 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 میں تو بادشاہ کے پاس تلوار ہوتی ہے، طاقت ہوتی ہے ، جتھہ ہوتا ہے، فوجیں ہوتی ہیں، جرنیل ہوتے ہیں، جیل خانے ہوتے ہیں، خزانے ہوتے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے پکڑ کر سزا بھی دیتا ہے لیکن روحانی حکومت میں جس کا جی چاہتا ہے مانتا ہے اور جس کا جی چاہتا ہے انکار کرتا ہے اور طاقت کا کوئی سوال ہی نہیں ہو تا۔پھر اللہ تعالیٰ نے حکومت روحانی پر ایسی حالت میں کھڑا کیا جب خزانے میں صرف چند آنے تھے ، چند پیسے خزانے میں رہ گئے تھے اور خزانے پر ہزارہا روپیہ کا قرض تھا اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ کام ایسی حالت میں سپر د کیا جب جماعت کے ذمہ دار افراد تقریباًسب کے سب مخالف تھے اور یہاں تک مخالف تھے کہ ان میں سے ایک نے مدرسہ ہائی سکول کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہم تو جاتے ہیں لیکن عنقریب تم دیکھو گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گا۔پس ایک پچیس برس کا لڑکا جس کے لئے تمام ظاہری اسباب مخالفت میں کھڑے تھے، نہ خزانہ ، نہ تجربہ کار کام کرنے والے اور میدان دشمن کے قبضے میں تھا اور وہ خوشیاں منا رہا تھا کہ عنقریب یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور وہ لوگ یہ کہتے تھے کہ جس کو حکومت دی گئی ہے اس کے دن تنزل اور ادبار میں بدل جائیں گے۔وہ ذلت و رسوائی دیکھے گا۔ایک انسان غور کر سکتا ہے کہ ایسے حالات میں قوم کا کیا حال ہو سکتا ہے۔مگر وہ دن گیا اور آج کا دن آیا۔دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ جماعت کی جو تعداد اس وقت تھی جب وہ میرے سپرد کی گئی آج خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ ہے۔جن ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا تھا آج اس سے بیسیوں گنا زیادہ ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جس خزانے میں صرف اٹھارہ آنے تھے آج لاکھوں روپے اس خزانے میں موجود ہیں۔فرماتے ہیں کہ آج میں اگر مر بھی جاؤں تب بھی خزانے میں لاکھوں روپے چھوڑ کر جاؤں گا۔اس سلسلہ کی تائید میں اس سے بہت زیادہ کتابیں چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملیں یعنی لٹریچر میں اور میں سلسلہ کی خدمت کے لئے اس سے بہت زیادہ علوم چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے اس وقت ملے تھے جب خدا نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا تھا۔پس وہ خدا جس نے کہا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا اور خدا کا سایہ اس کے کی سر پر ہو گا اس کی وہ پیشگوئی ایسے عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کو تو اتنا اہم قرار دیا ہے جیسا کہ میں نے شروع میں بھی اقتباس پیش کیا تھا کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ عظیم الشان نشان ہے۔اس لڑکے کی پیدائش پیشگوئی کے مطابق نو برس میں ہوئی تھی۔یہ بھی اس پیشگوئی میں الفاظ تھے جو اصل پیشگوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نو برس کے عرصے تک تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ ہی یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ مخواہ ہو گی چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی انکل سے قطع اور یقین کیا جائے۔پھر صرف لڑکا ہی پیدا نہیں ہونا تھا بلکہ یہ بھی پیشگوئی تھی کہ وہ لڑکا اسلام کی شان و شوکت کا موجب ہو گا۔وہ کیا زمانہ تھاجب