خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد 14 105 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 ہوں۔یہی نہیں کہ میں تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں اور زمین میرے قدموں تلے سمٹتی چلی جاتی ہے۔پسر موعود کی پیشگوئی میں یہ بات ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔اس طرح رویا میں دیکھا کہ میں بعض غیر ملکوں کی طرف گیا ہوں اور پھر میں نے وہاں جا کے اپنے کام کو ختم نہیں کر دیا بلکہ میں اور آگے جانے کا ارادہ کر رہا ہوں۔میں نے رویا میں کہا کہ اے عبد الشکور اب میں آگے جاؤں گا اور جب سفر سے واپس آؤں گا تو دیکھوں گا کہ تو نے توحید کو قائم کر دیا ہے، شرک کو مٹا دیا ہے اور اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو دلوں میں راسخ کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو اللہ تعالیٰ نے کلام نازل فرمایا اس میں اسی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔یعنی تبلیغ کے کاموں کو آگے بڑھانے والا ہو گا اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی یقیناً حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بڑی شان سے پوری ہوئی ہے۔اسی طرح آپ کی اس طویل رویا میں پیشگوئی مصلح موعود سے ملتی جلتی بہت سی باتیں ہیں جو مختلف پیرائے میں آپ کو رویا میں دکھائی گئیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 25 صفحہ 70-69) بہر حال اب میں رؤیا کے حوالے سے بیان کرنے کے بجائے حضرت مصلح موعودؓ نے واقعات کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا جو تطابق بیان کیا ہے کہ آپ کے زمانے سے اور اب اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے جو واقعات ہوئے وہ کس طرح اس سے مطابقت رکھتے ہیں ان کا مختصر اذ کر کروں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے یہ بچہ ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر مجھے کھڑا کیا۔اس کی طرف بھی پیشگوئی میں اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔پھر آپ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کمرے میں نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا اور یہ کمرہ مسجد کے ساتھ تھا تو مجھے مسجد سے اونچی اونچی آوازیں بھی آئیں جن میں سے ایک شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز میں نے پہچان لی جو یہ کہہ رہے تھے کہ ایک بچے کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جارہا ہے۔ایک بچے کے لئے یہ فساد برپا کیا جارہا ہے۔تو آپ فرماتے ہیں کہ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ بچہ کون ہے۔آخر مسجد میں جاکر میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ وہ بچہ کون ہے ؟ تو وہ دوست ہنس کر کہنے لگے کہ وہ بچے تم ہی ہو۔فرماتے ہیں کہ مخالفین کا یہ قول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کی تصدیق کر رہا تھا کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔آپ فرماتے ہیں خدا نے مجھے اتنی جلدی بڑھایا کہ دشمن حیران رہ گیا کیونکہ چند ماہ قبل مجھے بچہ کہنے والے چند ماہ کے بعد ہی مجھے ایک شاطر تجربہ کار کہہ کر میری برائی کر رہے تھے۔بالکل الٹ گئے وہ۔گویا بچپن میں ہی اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے سلسلہ میں رخنہ ڈالنے والوں کو شکست دلوا دی۔فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ لوگ مجھے بچہ سمجھتے تھے اور باوجود اس کے کہ میں واقعہ میں بچہ ہی تھا اللہ تعالیٰ نے پچیس سال کی عمر میں ایک حکومت پر قائم کر دیا اور حکومت بھی ایسی جو روحانی حکومت تھی۔جسمانی حکومت