خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 103
خطبات مسرور جلد 14 103 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 مطلب لیا جائے تو چوتھے بیٹے کے لحاظ سے بھی مطلب صاف ہے۔مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب، مرزا فضل احمد صاحب اور مرزا بشیر احمد اول پیدا ہوئے اور چوتھا میں ہوا۔اور میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے اس لحاظ سے بھی میں تین کو چار کرنے والا ہو ا۔پھر میری خلافت کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مرزا سلطان احمد صاحب کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق دی اس طرح بھی میں تین کو چار کرنے والا ہوا۔اگر یہ اولاد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گویا تین کو چار کرنے والا میں تین طرح سے ہوا۔لیکن فرماتے ہیں کہ میرا ذہن اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی منتقل کیا ہے کہ الہامی طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ وہ تین بیٹیوں کو چار کرنے والا ہو گا۔الہام میں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔پس میرے نزدیک یہ اس کی پیدائش کی تاریخ بتائی گئی ہے۔یہ پیشگوئی ابتداء 1886ء میں کی گئی تھی۔مصلح موعود کی جو پیشگوئی ہے یہ ابتداء1886ء میں ہوئی تھی۔اور آپ نے فرمایا کہ میری پیدائش 1889ء میں (eighteen eighty-nine) میں ہوئی۔پس تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس کی پیدائش چوتھے سال میں ہو گی اور ایسا ہی ہوا۔اور یہ جو آتا ہے دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔اس کے اور معنی بھی ہو سکتے ہیں مگر میرے نزدیک اس کی ایک واضح تشریح یہ ہے کہ دوشنبہ ہفتے کا تیسرا دن ہوتا ہے۔دوسری طرف روحانی سلسلوں میں انبیاء اور ان کے خلفاء کا الگ الگ دور ہوتا ہے اور جس طرح نبی کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے اسی طرح خلیفہ کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے غور کر کے دیکھو۔پہلا دور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔دوسرا دور حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔اور آپ فرماتے ہیں کہ تیسر ا دور میرا ہے۔ادھر اللہ تعالیٰ کا ایک اور الہام بھی اس تشریح کی تصدیق کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود کو الہام ہو ا تھا اور وہ الہام یہ ہے کہ افضل عمر حضرت عمر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیسرے نمبر پر خلیفہ تھے۔پس دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ سے یہ مراد نہیں کہ کوئی خاص دن خاص برکات کا موجب ہو گا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس موعود کے زمانے کی مثال احمدیت کے دور میں ایسی ہی ہو گی جیسے دوشنبہ کی ہوتی ہے۔یعنی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خدمت دین کے لئے جو آدمی کھڑے کئے جائیں گے ان میں وہ تیسرے نمبر پر ہو گا۔فضل عمر کے الہامی نام میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔گویا کلام اللہ میں يُفسّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا کے مطابق فضل عمر کے لفظ نے دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ کی تفسیر کر دی۔فرمایا کہ مگر الہام میں ایک اور خبر بھی ہے اور خدا تعالیٰ مبارک دوشنبہ ایک ایسے ذریعہ سے بھی لانے والا ہے جو فرماتے ہیں کہ میرے اختیار میں نہیں تھا اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں نے اپنے ارادے سے اور جان بوجھ کر اس کا اجراء کیا ہے۔یعنی تحریک جدید کا اجراء جسے 1934ء میں ایسے حالات میں جاری کیا گیا جو آپ فرماتے ہیں کہ میرے اختیار میں نہیں تھے۔گورنمنٹ کے ایک فعل نے جس میں جماعت کے خلاف بعض