خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 102

خطبات مسرور جلد 14 102 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی۔آپ نے فرمایا تھا ایک زمانے میں ریل شروع ہو جائے گی اور ماننے والے مانتے ہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی کیونکہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ضروری نہیں کہ ریل خود بھی دعوی کرے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی مصداق ہوں۔بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے مختلف پیشگوئیاں میرے بارے میں میرے سامنے رکھیں اور اصرار کیا کہ میں ان کا اپنے آپ کو مصداق قرار دوں۔مگر میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ پیشگوئی اپنے مصداق کو آپ ظاہر کرتی ہے۔اگر یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں تو زمانہ خود بخود دیکھ لے گا کہ میں ان کا مصداق ہوں اور اگر میرے متعلق نہیں تو زمانے کی گواہی میرے خلاف ہو گی۔دونوں صورتوں میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر میرے متعلق نہیں تو میں کیوں گناہگار بنوں۔اور اگر میرے متعلق ہیں تو مجھے جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے خدا تعالیٰ خود بخود حقیقت ظاہر کر دے گا۔جیسے الہام میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کہا آنے والا یہی ہے یا ہم دوسروں کی راہ تکیں۔یہ الہام کے فقرے تھے۔دنیا نے یہ سوال اتنی دفعہ کیا، اتنی دفعہ کیا کہ اس پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا۔اس لمبے عرصے کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں خبر موجود ہے۔مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یعقوب کو کہا تھا کہ تو اسی طرح یوسف کی باتیں کرتارہے گا یہاں تک کہ قریب المرگ ہو جائے گا یا ہلاک ہو جائے گا۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہوا۔اسی طرح یہ الہام ہونا کہ یوسف کی خوشبو مجھے آرہی ہے۔آپ کو یہ الہام بھی ہوا۔آپ نے اس کا ایک شعر میں بھی ذکر کیا ہوا ہے یہ بتاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت یہ چیز ایک لمبے عرصے کے بعد ظاہر ہو گی کیونکہ حضرت یوسف بھی اپنے باپ کو بڑے لمبے عرصے کے بعد ملے تھے یا وہ پیشگوئی پوری ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا کہ میں تو اس یقین پر قائم ہوں کہ اگر موت تک بھی مجھ پر یہ ظاہر نہ کیا جاتا کہ یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں تب بھی واقعات خود بخود بتا دیتے کہ یہ پیشگوئیاں میرے ہاتھ سے اور میرے زمانے میں پوری ہوئی ہیں اس لئے میں ہی ان کا مصداق ہوں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے تحت اس امر کو ظاہر کر دیا اور مجھے علم بھی دے دیا کہ مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میرے بارے میں ہیں۔آپ نے بعض پیشگوئیوں کا مختصر ذکر کیا ہے مثلاً وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔اس کے متعلق آپ یہ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔اسی طرح ہے دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔اس کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔ان دونوں باتوں کی آپ نے اس طرح وضاحت فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہن تین کو چار کرنے والا کی پیشگوئی کے بارے میں اس طرف گیا ہے کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہو گا۔اگر یہ