خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 101
خطبات مسرور جلد 14 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 ہوئی۔اس پیشگوئی کے مصداق جیسا کہ وقت نے ثابت کیا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی تھے۔جماعت کے علماء اور افراد جماعت تو یقین رکھتے تھے کہ یہ پیشگوئی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے بارے میں ہی ہے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خود کبھی اس بات کا اظہار یا اعلان نہیں کیا تھا کہ پیشگوئی میرے بارے میں ہے اور میں ہی مصلح موعود کا مصداق ہوں یہاں تک کہ آپ کی خلافت پر تقریباً تیس سال گزر گئے۔آخر 1944ء میں آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ میں مصلح موعود ہوں۔آج میں حضرت مصلح موعودؓ کے اس بارے میں دو خطبات سے خلاصۂ آپ کے ہی الفاظ میں عموماً کچھ بیان کروں گا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے 28 جنوری 1944ء کے خطبہ میں فرمایا کہ آج میں ایک ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کا بیان کرنا میری طبیعت کے لحاظ سے مجھ پر گراں گزرتا ہے لیکن چونکہ بعض نبوتیں اور الہی تقدیریں اس بات کے بیان کرنے سے وابستہ ہیں اس لئے میں اس کے بیان کرنے سے باوجود اپنی طبیعت کے انقباض کے رک بھی نہیں سکتا۔پھر آپ نے اپنی ایک لمبی رؤیا کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی تعبیر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ وہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے متعلق تھی خدا تعالیٰ نے میری ہی ذات کے لئے مقدر کی ہوئی تھی۔اس سے پہلے کبھی آپ نے اس بارے میں واضح اظہار نہیں فرمایا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا اور بار بار کہا کہ آپ کی ان پیشگوئیوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ مگر میری یہ حالت تھی کہ میں نے کبھی سنجیدگی سے ان پیشگوئیوں کو پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی اس خیال سے کہ میرا انفس مجھے کوئی دھو کہ نہ دے اور میں اپنے متعلق کوئی ایسا خیال نہ کر لوں جو واقعہ کے خلاف ہو۔پس دیکھیں جو اصل ہے وہ تو اتنی احتیاط کرتا ہے اور دوسرے جن کے دماغ الٹے ہوئے ہیں بغیر نشان کے ہی اس کے اظہار کرتے رہتے ہیں تو سوائے اس کے کہ ان کو پاگل کہا جائے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔بہر حال اس پیشگوئی کے بارے میں اپنی شرم اور جھجھک کا ایک جگہ آپ نے اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ مجھے ایک خط دیا اور فرمایا کہ یہ خط جو تمہاری پیدائش کے متعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے لکھا تھا۔اس خط کو تشحیذ الا ذبان میں چھاپ دو۔یہ رسالہ تفخیذ الاذہان حضرت مصلح موعودؓ نے ہی شروع کیا تھا اور آپ ہی اس کی اشاعت بھی کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت خلیفہ اول کے احترام میں وہ خط لے لیا اور شائع بھی کر دیا۔مگر میں نے اس وقت بھی اسے غور سے نہیں پڑھا۔لوگوں نے اس وقت بھی خط شائع ہونے پر کئی قسم کی باتیں کیں مگر میں خاموش رہا۔میں یہی کہتا تھا کہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے بارے میں یہ باتیں ہیں انہیں اس کے سامنے بھی لایا جائے اور بتایا جائے یا ضروری نہیں کہ جس شخص کے بارے میں یہ پیشنگوئیاں ہیں وہ ضرور بتائے بھی کہ میں ان پیشگوئیوں کا مصداق ہوں۔مثال کے طور پر آپ فرماتے ہیں کہ ریل