خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 100
خطبات مسرور جلد 14 100 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 / فروری 2016ء بمطابق 19 تبلیغ 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 20 فروری کا دن جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی جو دین کا خادم ہو گا۔عمر پائے گا اور بیشمار دوسری خصوصیات کا حامل ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پیشگوئی کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : " یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤوف ورحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صد با درجہ اعلیٰ و اولی و اکمل و افضل و اتم ہے کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے۔۔۔۔جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے۔مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانه و به برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیائے موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صد با درجہ بہتر ہے۔مردہ کی بھی روح ہی دعاسے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے مگر اُن روحوں اور اِس روح میں لاکھوں کو سوں کا فرق ہے۔" ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 114-115 - اشتہار 22 مارچ 1886ء) پھر اپنوں اور غیروں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو یہ پیشگوئی تھی بڑی شان سے پوری