خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 98

خطبات مسرور جلد 14 98 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 ہے ایک بُجھلکا کھانے والے کا۔پس اس قسم کے دعووں کا کیا فائدہ کہ ہم یوں کر دیں گے ، ؤوں کر دیں گے۔ہاں اللہ تعالیٰ جو کہتا ہے وہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یوں ہو جائے گا۔انکسار کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو کہتا ہے اسے بھی چھپائیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَ آنَا وَرُسُلِي (المجادلة:22)۔کہ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ ہم اور ہمارے رسول غالب ہوں گے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہم تمہیں پیس دیں گے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر تو میری طاقت کا سوال ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن اگر یہ الفاظ احمدیت کے متعلق کہے گئے ہیں تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔احمدیت ضرور غالب ہو کر رہے گی انشاء اللہ۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 343) خد اتعالیٰ کے وعدوں پر ہمیں اتنا یقین ہے کہ جتنا اپنی جان پر بھی نہیں ہے۔پس احمدیت نے تو غالب آنا ہے چاہے ہماری زندگیوں میں آئے یا بعد میں آئے۔لیکن ہمیں اس غلبہ کا حصہ بننے کے لئے تقویٰ پر قائم رہنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ نسلاً بعد نسل یہ چیز قائم رہے اور اگر ہمارے زمانے میں نہیں تو ہماری نسلیں اس کو دیکھنے والی ہوں۔دعائیں کس طرح کرنی چاہئیں اور احمدیوں پر جو مشکل حالات ہیں ان سے کس طرح نکلنا چاہئے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں محبت کا بہترین مظاہر ہ وہی ہو تا ہے جو ماں کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے یا ماں کو اپنے بچے سے ہوتا ہے۔بسا اوقات ماں کی چھاتیوں میں دودھ خشک ہو جاتا ہے مگر جب بچہ روتا ہے تو دودھ اتر آتا ہے۔پس جس طرح بچے کے روئے بغیر ماں کی چھاتیوں میں دودھ نہیں اتر سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی رحمت کو بندے کے رونے اور چلانے سے وابستہ کر دیا ہے۔جب بندہ چلاتا ہے تو رحمت کا دودھ اترنا شروع ہوتا ہے۔اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہمیں چاہئے کہ اپنی طرف سے انتہائی کوشش کریں۔مگر وہ کوشش نہیں جو منافق مراد لیا کرتے ہیں اور اس کے بعد جس حد تک زیادہ سے زیادہ دعاؤں کو لے جاسکتے ہیں ہمیں لے جانا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس وقت بھی تحریک کی تھی کہ سات روزے رکھیں اور دعائیں کریں۔چند سال ہوئے میں نے بھی کہا تھا کہ جماعت کو روزے رکھنے چاہئیں۔(خطبات مسرور جلد نم صفحہ 501-502) اور جماعت میں ابھی تک بعض ایسے ہیں جو اس پر قائم ہیں، اور روزے رکھتے ہیں۔کم از کم اب ہمیں چاہئے کہ چالیس روزے ہفتہ وار ہی رکھیں۔یعنی چالیس ہفتوں تک خاص طور پر روزے رکھیں، دعائیں کریں، نفل ادا کریں اور صدقات دیں۔کیونکہ بعض جگہ جماعت کے جو حالات ہیں ان میں بہت زیادہ سختی اور شدت آتی جارہی ہے۔جب ہم اللہ تعالیٰ کے حضور چلائیں گے تو جس طرح بچے کے رونے سے ماں کی چھاتیوں میں دودھ اتر آتا ہے، آسمان سے ہمارے رب کی نصرت انشاء اللہ تعالیٰ نازل ہو گی اور وہ روکیں اور مشکلیں جو ہمارے راستے میں ہیں وہ دُور ہو جائیں گی۔پہلے بھی دُور ہوتی رہیں اور اب بھی انشاء اللہ دُور ہوں گی۔