خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 97
خطبات مسرور جلد 14 97 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 کے ہاں یا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں مجھے صحیح یاد نہیں چوری ہو گئی اور ان کا کچھ زیور چرایا گیا۔ان کا ایک نو کر تھا وہ شور مچاتا تھا کہ ایسے کمبخت بھی دنیا میں موجود ہیں جو خدا تعالیٰ کے خلیفہ کے ہاں چوری کرتے ہوئے بھی شرم نہیں کرتے۔وہ نوکر چوری کرنے والے پر بے انتہا لعنتیں ڈال رہا تھا اور یہ کہے کہ خدا اس کا پردہ فاش کرے اور اسے ذلیل کرے۔آخر تحقیقات کرتے کرتے پتالگا کہ ایک یہودی کے ہاں وہ زیور گروی رکھا گیا ہے۔جب اس یہودی سے پوچھا گیا کہ یہ زیور کہاں سے تمہیں ملا تو اس نے اسی نوکر کا نام بتایا جو بڑا شور مچار ہا تھا اور چور پر لعنتیں ڈالتا پھر تا تھا۔تو منہ سے لعنتیں ڈال دینا یا زبان سے فرمانبرداری کا دعویٰ کرنا کوئی چیز نہیں۔عمل اصل چیز ہوتی ہے۔ورنہ محض منہ سے اطاعت کا دعویٰ کرنے والا بعض دفعہ سب سے بڑا منافق بھی ہو سکتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 516) پس بڑے فکر کا مقام ہے یہ اور ہمیں اس بات کی طرف ہمیشہ توجہ دینی چاہئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ ایک معاند احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے جس نے آپ کے سامنے یہ بڑھاری تھی اور کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم احمدیت کو کچل دیں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں بھی اسے ایسا جواب دے سکتا تھا کہ تم کچل کے تو دیکھو۔لیکن میں نے اسے کہا کہ کسی کو مٹانا یا نہ مٹانا یا قائم رکھنا یہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر تو وہ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں مٹانا چاہے تو آپ لوگوں کو کسی کو شش کی ضرورت ہی نہیں ہے ، وہ خود ہی مٹادے گا۔لیکن اگر وہ ہمیں قائم رکھنا چاہے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اور تقویٰ ہی ہے جو انسان کو ایسے دعووں سے بچاتا ہے کہ میں یہ کر دوں گا اور وہ کر دوں گا۔میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔تقویٰ ہی ہے جو صحیح جواب سمجھاتا ہے۔اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ ہم تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہمیں قائم رکھنا چاہتا ہے تو تم کچھ بھی نہیں کر سکتے اور ہم کوئی نہیں مٹ سکتے۔فرمایا کہ تقویٰ ہی ہے جو انسان کو ایسے دعووں سے بچاتا ہے کہ میں یہ کر دوں گا اور وہ کر دوں گا۔ایسے دعووں کا کیا فائدہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ قادیان میں یا شاید کسی اور جگہ سخت ہیضہ پھوٹا۔ایک جنازے کے موقع پر ایک شخص کہنے لگا یہ لوگ خود مرتے ہیں۔ہیضہ پھیلا ہوا ہے مگر لوگ کھانے پینے سے باز نہیں آتے۔خوب پیٹ بھر کر کھالیتے ہیں۔یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ ہیضے کے دن ہیں۔وہ شخص جو بڑا بول رہا تھا کہنے لگا دیکھو ہم تو صرف ایک پھل کا کھاتے ہیں۔ایک چھوٹی سی چپاتی کھاتے ہیں۔مگر یہ کمبخت لوگ جو ہیں ٹھونستے جاتے ہیں اور پھر ہیضے سے مرتے جاتے ہیں۔دوسرے روز ایک اور جنازہ آیا تو کسی نے پوچھا کہ یہ کس کا ، ہے۔تو وہاں بہت سارے لوگ اس کی باتیں سن سن کے تنگ آئے ہوئے تھے۔کسی دل جلے نے کہہ دیا کہ یہ جنازہ