خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد 14 96 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 توجہ کرو اور تقویٰ و طہارت پیدا کرو اور مت سمجھو کہ تم نیک کام کر رہے ہو کیونکہ نیک سے نیک کام میں بھی بے ایمانی پید اہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ نامعلوم کیا بات ہے کہ آج کل لوگ حج کر کے آتے ہیں تو ان کے قلوب میں آگے سے زیادہ رعونت اور بدی پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔یہ نقص اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ حج کے مفہوم کو نہیں سمجھتے اور بجائے روحانی لحاظ سے کوئی فائدہ اٹھانے کے محض حاجی بن جانے کی وجہ سے تکبر کرنے لگ جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی آپ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک لطیفہ بھی سنایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا سردی کے دنوں میں رات کے وقت اسٹیشن پر بیٹھی تھی۔کسی نے اس کی چادر اٹھالی۔جب اسے سردی لگی اور اس نے چادر اوڑھنی چاہی تو اسے گم پایا۔یہ دیکھ کر وہ آواز دے کر کہنے لگی کہ بھائی حاجی میری تو ایک ہی چادر تھی اس کی مجھے ضرورت ہے وہ مجھے واپس کر دو۔وہ چادر لے جانے والا قریب ہی بیٹھا تھا، لے کے نہیں گیا۔یہ سن کر اس شخص نے جس نے چادر اٹھائی تھی شرمندہ ہوا اور وہ چادر اس کے پاس رکھ دی مگر ساتھ ہی اس نے پوچھا کہ تجھے یہ پتا کس طرح چلا کہ چادر چرانے والا چور کوئی حاجی ہے۔وہ کہنے لگی کہ اس زمانے میں اس قدر سنگدلی حاجی ہی کر سکتے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ ہم نیک کاموں میں لگے ہوئے ہیں، یہ مت خیال کرو کہ ہم نیک ارادے رکھتے ہیں۔کتنا ہی نیک کام انسان کر رہا ہو اس میں سے بدی پیدا ہو سکتی ہے اور کتنا ہی نیک ارادہ انسان رکھتا ہو وہ اس کے ایمان کو بگاڑ ڑسکتا ہے کیونکہ ایمان ہمارے اعمال کے نتیجہ میں نہیں آتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے رحم کے نتیجہ میں آتا ہے۔یہ بنیادی چیز ہے ، یاد رکھنی چاہئے۔ہمارے اعمال جتنے بھی ہوں اگر اللہ تعالی کارحم نہیں ہے ، اس کا فضل نہیں تو پھر ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔پس تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رحم پر نگاہ رکھو اور تمہاری نظر ہمیشہ اس کے ہاتھوں کی طرف اٹھے کیونکہ وہ سوالی جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دروازے سے اٹھنے کے بعد میرے لئے کوئی اور دروازہ نہیں کھل سکتا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر لیتا ہے۔پس تمہاری نگاہ ہر وقت اللہ تعالی کی ہی طرف اٹھنی چاہئے۔جب تک تم اپنی نگاہ اس کی طرف رکھو گے تم محفوظ رہو گے کیونکہ جس کی خدا تعالیٰ کی طرف نگاہ اٹھ رہی ہو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔مگر جو نہی نظر کسی اور کی طرف پھیری جائے اور انسان اس کے دروازے سے قدم اٹھالے یعنی اللہ تعالیٰ کے دروازے سے قدم اٹھالے پھر خواہ کتنے ہی نیک ارادے اور کتنے ہی اچھے کام کرے اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا بلکہ وہ شیطان کی بغل میں جا کر بیٹھتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 216تا218) پس مستقل تو بہ اور استغفار اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو مانگنا، اس کے رحم کو مانگنا اور اس کو جذب کرنے کی کوشش کرنا یہی چیزیں ہیں جو انجام بخیر کی طرف لے کر جاتی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے ، فرماتے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ