خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد 14 95 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 بلائے تو گورنر کا جو اردلی ہے وہ بغیر کسی دعوت کے اس کے پاس جائے گا اور وہاں دعوت میں اس کے محافظ اور خادم بھی شامل ہوں گے۔فرمایا کہ اس لئے تمہاری حالت کتنی بھی ادنی ہو ، اگر تم فرشتوں سے تعلقات پیدا کر لو تو وہ جہاں بھی جائیں گے تم ان کے ساتھ جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پید اہو گا تو اس کے فرشتوں کے ساتھ تعلق پید اہو گا۔تم ان کے اردلیوں اور چپڑاسیوں میں شامل ہو جاؤ گے۔اگر وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں جائیں گے تو تم بھی ان کے ساتھ جاؤ گے۔پس فرماتے ہیں کہ تم اس عظیم الشان طاقت کو سمجھو جسے خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے بنایا ہے۔تمہاری قوت روحانیت کے ساتھ وابستہ ہے۔تم اسے مضبوط بنانے کے لئے فرشتوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات پیدا کرو تا تمہیں لوگوں کے قلوب تک پہنچ حاصل ہو جائے۔اگر تمہیں لوگوں کے قلوب تک پہنچ حاصل ہو جائے تو سارے پر دے دُور ہو جائیں گے اور جہاں خدا تعالیٰ کا نور پہنچے گا تم بھی وہاں پہنچ جاؤ گے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس وقت جلسے پر آنے والوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور جس شوق سے تم یہاں آئے ہو اسے پورا کرنے کے سامان پیدا کرو۔اس طرح نہ ہو کہ جس طرح گشتی دیکھنے کے لئے کچھ لوگ پہلے آ جاتے ہیں تم بھی یہاں آگئے ہو۔بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کر و اور پھر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی وجہ سے اس کے فرشتوں سے تعلق پیدا ہو گا اور یہ روحانیت جو ہے وہ پھر لوگوں کے دماغوں پر جب اثر ڈالے گی تو تمہارے کام فرشتے کر رہے ہوں گے اور جہاں وہ پہنچیں گے وہاں تمہارا نام بھی پہنچادیں گے کیونکہ تمہاری نیت نیک ہے۔تمہاری روحانیت میں ترقی ہے۔تم خد اتعالیٰ کے لئے کام کر رہے ہو گے۔(ماخوذ از الفضل 9 جنوری 1955ء صفحہ 3 کالم 1 جلد 44/9 نمبر 8) پس اس بنیادی اصول کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، چاہے وہ جلسے ہوں یا اجتماع ہوں۔جب روحانیت کی ترقی کے لئے جمع ہوتے ہیں تو پھر اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی مجالس کو صرف عارضی طور پر روحانی مجلس نہ بنائیں بلکہ ایسی بنائیں کہ روحانی مجالس کے جو بھی اثرات ہیں وہ مستقل طور پر قائم رہیں اور پھر فرشتے بھی ہر جگہ ہماری مدد کرنے والے بن جائیں اور جہاں بھی ہم کوشش کریں وہاں فرشتے داخل ہو کر اس پر اثر ڈالیں اور ہماری کوششوں کو کامیاب بنانے والے ہوں۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی مومن وہی ہے جو ایک نیک کام کرتا ہے تو پہلے سے زیادہ عاجزی اور استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مزید نیک کاموں کی دعا مانگتا ہے تا کہ یہ سلسلہ چلتا رہے اور اس کا انجام بھی بخیر ہو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائیں کرتے دیکھتے تو ہمیں یہ معلوم ہو تا کہ جیسے ایک ہنڈیا جوش سے اہل رہی ہے۔پس اپنے نفوس کی اصلاح کی طرف