خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 94
خطبات مسرور جلد 14 94 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 کہ کوئی لونڈی کسی کی نوکر، ملازمہ تھی جو سحری کے وقت باقاعدہ اٹھا کرتی تھی۔لیکن روزہ نہیں رکھتی تھی۔مالکہ نے سمجھا کہ شاید وہ کام میں مدد دینے کے لئے اٹھتی ہے۔مگر چونکہ وہ روزہ نہیں رکھتی تھی اس لئے مالکہ نے خیال کیا کہ اسے خواہ مخواہ سحری کے وقت تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔اس وقت کا کام میں خود کر لیا کروں گی۔چنانچہ دو چار دن کے بعد مالکہ نے اس سے کہا کہ لڑکی تو سحری کے وقت نہ اٹھا کر ، ہم خود اس وقت کام کر لیا کریں گے۔تمہیں اس وقت تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ بات سن کر اس لڑکی نے نہایت حیرت سے اپنی مالکہ کی طرف دیکھا کہ یہ مجھ سے کیا کہہ رہی ہے اور کہنے لگی بی بی نماز میں نہیں پڑھتی، روزہ میں نہیں رکھتی، اگر سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں۔در حقیقت یہ تصویری زبان میں مسلمانوں کی حالت ہے یا ان لوگوں کی حالت ہے جو نمازوں پہ توجہ نہیں دیتے۔فرماتے ہیں کہ دوسرے لفظوں میں تم یہ کہ سکتے ہو کہ اگر کسی مسلمان کو کہا جائے، جمعتہ الوداع کے حوالے سے بات کی ہے، لیکن ہر جمعہ اور ہر نماز پہ یہ حالت ہوتی ہے کہ میاں! جمعتہ الوداع سے کیا بنتا ہے۔تم کیوں خوامخواہ اس کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے ہو۔باقی جمعے نہیں پڑھے تو یہ بھی نہ پڑھو۔تو وہ حیرت سے تمہارے منہ کو دیکھنے لگ جائے گا۔کہے گا بھائی جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ روزانہ نمازوں کے لئے میں مسجد میں نہیں آتا، روزے میں نہیں رکھتا، اگر جمعتہ الوداع بھی نہ پڑھوں تو کافر ہی ہو جاؤں۔پس یہ بھی ایک ہنسی ہی ہے کہ ایک وقت آکر نماز پڑھ لی جائے اور سمجھ لیا جائے کہ فرائض ادا ہو گئے۔یا ان لوگوں کے لئے بھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں آکر ایک نماز پڑھ لی اور فرض ادا ہو گیا۔بس کافی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 438-439) پس وہ لوگ جو نمازوں کی طرف باقاعدگی سے توجہ نہیں دیتے وہ اسی زمرے میں آتے ہیں۔پانچ نمازیں ہر بالغ عاقل مسلمان پر فرض ہیں اور مردوں پر یہ مسجدوں میں باجماعت فرض ہیں اور اس کے لئے انتظام ہونا چاہئے۔یا تو یہ کہہ دیں کہ ہم بالغ نہیں۔یا یہ کہہ دیں کہ بے عقل ہیں، تو ٹھیک ہے۔اور جب یہ دونوں چیزیں نہیں تو پھر باجماعت نماز کی ہر جگہ کوشش ہونی چاہئے۔ایک روایت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خودسنا ہے۔آپ کی تحریروں میں بھی یہ ہے۔کہ جب کوئی بادشاہ یا امیر کسی جگہ جاتا ہے تو اس کا اردلی بھی ساتھ جاتا ہے۔جو بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے اسے اندر جانے کی اجازت طلب کرنی نہیں پڑتی۔آجکل بھی دیکھ لیں منسٹر آتے ہیں، دوسرے لوگ آتے ہیں ان کے جو پروٹوکول افسر ہیں یا ان کے حفاظت کرنے والے ہیں سارے ساتھ جاتے ہیں۔ان کی اجازت نہیں لی جاتی کہ وہ بھی ساتھ آئیں گے۔مثلاً اگر وائسرائے کسی گورنر کو بلائے۔اُس زمانے میں ہندوستان پاکستان کے علاقے میں جو انگریزوں کی حکومت تھی اس میں وائسرائے تھا۔اگر وائسرائے گورنر کو