خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 93

خطبات مسرور جلد 14 93 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 خدا تعالیٰ وہ چراغ بخش دے وہ اس کو حرکت دیتا ہے اور بوجہ اس کے کہ عزم اور ارادہ خدا تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ کُن کہتا ہے اور کام ہونے لگ جاتا ہے اسی طرح جب اس کی اتباع میں اس کے مقرر کردہ اصول کے ماتحت، اس کے احکام پر عمل کرتے ہوئے یہ ساری شرطیں ہیں یاد رکھیں اس سے دعائیں کرتے ہوئے اور اس سے مدد مانگتے ہوئے کوئی انسان گن کہتا ہے تو وہ ہو جاتا ہے۔غرض بچپن میں ہم اللہ دین کے چراغ کے قائل تھے۔جوانی میں ہمارا یہ خیال متزلزل ہو گیا مگر بڑھاپے میں ایک لمبے تجربے کے بعد معلوم ہوا کہ الہ دین کے چراغ والی کہانی سچی ہے۔لیکن یہ ایک تمثیلی حکایت ہے اور چراغ پیتل کا نہیں بلکہ عزم اور ارادے کا چراغ ہے۔جب اسے رگڑا جاتا ہے تو خواہ کتنا بڑا کام کیوں نہ ہو وہ آنافا نا ہو جاتا ہے۔(ماخوذ از الفضل 24 جنوری 1962ء صفحہ 2-3 جلد 51/16 نمبر 20) پس یہ ہم میں سے ہر ایک کی سوچ ہونی چاہئے کہ ہم نے صرف اگر چاہنے تک نہیں رہنا بلکہ چاہتا ہے اور چاہنے کے ساتھ ہی اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اس کام کو کرنا ہے، اللہ تعالیٰ سے مددمانگتی ہے۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو چاہتے بھی ہیں لیکن بعض دفعہ چاہنے کے باوجود بعض کام نہیں ہوتے۔اس لئے کہ وہ چاہنا جو ہے وہ بے دلی سے ہوتا ہے۔اس کے ساتھ وہ تمام لوازمات جو بیان کئے گئے ہیں وہ نہیں ہوتے۔عزم نہیں ہو تا، حوصلہ نہیں ہو تا، محنت نہیں کی جاتی۔صرف دل میں سوچا جاتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں۔اس بات کو خاص طور پر میں دیکھتا ہوں جب نمازوں کا سوال آتا ہے۔کئی لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کریں ہم چاہتے ہیں کہ نمازوں میں باقاعدہ ہو جائیں لیکن با قاعدہ نہیں۔باقی کاموں کو جب چاہتے ہیں تو وہ کر لیتے ہیں لیکن نماز کو کیونکہ بے دلی سے چاہتے ہیں، اپنی تمام تر صلاحیتیں اس پر استعمال نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ سے مدد نہیں مانگتے اس لئے نمازوں کی عادت بھی نہیں پڑتی۔ایسے لوگوں کا چاہنا جو ہے وہ اصل میں نہ چاہنا ہوتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان چاہے بھی اور کام نہ ہو سکے۔نماز ان کے لئے حقیقت میں ایک ضمنی چیز ہوتی ہے۔دنیاوی کام پہلی ترجیح ہوتی ہے جو ایک غلط طریقہ ہے، اس لئے چاہنے پر عمل نہیں ہوتا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان چاہے بھی، ایک پکا ارادہ بھی ہو، اس کے کرنے کا مصمم ارادہ بھی ہو اور وہ کام نہ ہو۔پس یہ اپنی ستیاں ہوتی ہیں اور بے رغبتی ہوتی ہے جس کو بلا وجہ چاہنے کا نام دے دیا جاتا ہے۔ایک واقعہ آپ بیان کرنے سے پہلے فرماتے ہیں کہ ہم بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے جسے سن کر ہنسا کرتے تھے حالانکہ در حقیقت وہ ہنسنے کے لئے نہیں بلکہ رونے کے لئے بنایا گیا تھا اور اس میں موجودہ مسلمانوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔مگر اس قصے کے بنانے والے نے اشارے کی زبان میں مسلمانوں کی حالت کو بیان کیا ہے تاکہ مولوی اس کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔اور اگر کوئی احمدی بھی ایسی حرکتیں کرتا ہے تو اس کو بھی اپنا جائزہ لینا ہو گا۔وہ قصہ یہ ہے