خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد 14 92 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 گیدڑ وغیر ہ سامان خوراک کھاتے اور ضائع کرتے رہتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت مقروض ہو گیا اور بیس سال کی بد نظمی کے بعد اسے بتایا گیا کہ تم مقروض ہو چکے ہو۔اس شخص کی طبیعت میں سخاوت تھی اس لئے لنگر کا بند کر نا اس نے گوارا نہ کیا۔لیکن ادھر قرض اتارنے کی بھی فکر اسے تھی۔اس نے اپنے دوستوں کو بلایا۔ان سب کو بتایا کہ اس طرح میں مقروض ہو گیا ہوں۔اپنا نقص تو کوئی بتایا نہیں اور نہ کوئی بتاتا ہے۔ان سب نے کہا کہ سٹور روم کا کوئی دروازہ نہیں ہے۔ساری رات گیدڑ اور کتے وغیرہ مسلمان خوارک جو ہے وہ خراب کرتے رہتے ہیں اس لئے بہت سا سامان ضائع ہو جاتا ہے۔اگر سٹور کو دروازہ لگا دیا جائے تو بہت حد تک بچت ہو سکتی ہے۔اس نے حکم دیا کہ دروازہ لگادیا جائے چنانچہ وہ لگا دیا گیا۔یہ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے اور کہانیوں میں کتے اور گیدڑ، جانور بھی بولا کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ رات کو گیدڑوں اور کتوں نے سٹور روم کو دروازہ لگا ہوادیکھا تو انہوں نے بہت شور مچایا۔اچانک کوئی بڑھا اور بڑا خرانٹ قسم کا گیدڑ یا کتا آیا۔اس نے دریافت کیا تم شور کیوں مچاتے ہو۔باقیوں نے کہا کہ سٹور روم کو دروازہ لگ گیا ہے ہم کھائیں گے کہاں سے۔ہمارے تو علاقے کے سارے کتے اور گیدڑ یہیں سے کھایا کرتے تھے۔اس نے کہا تم یونہی روتے ہو، شور مچا رہے ہو، اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔جس شخص نے ہیں سال تک اپناگھر لٹتے دیکھا اور اس کا کوئی انتظام نہ کیا اس کے سٹور کا دروازہ بھلا کس نے بند کرنا ہے۔خود تو اس نے نگرانی نہیں کرنی۔اس لئے گھبراؤ نہیں۔تو اس کہانی میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر چاہیں اور چاہیں میں بڑا فرق ہو تا ہے۔کتوں اور گیدڑوں نے شور مچایا کہ اگر اس نے چاہا اور دروازہ بند کر دیا تو ہم کھائیں گے کہاں سے اور ان کا جو تجربہ کار اور خرانٹ لیڈر تھا اس نے کہا کہ اس نے یعنی جو امیر آدمی ہے اس نے چاہنا ہی نہیں۔اس نے توجہ ہی نہیں دینی تو پھر شور مچانے کی ضرورت کیا ہے۔یہ بیان کرنے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اگر ہماری جماعت نے چاہنا ہی نہیں تو کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ چاہیں تو بڑے بڑے مشکل کام بھی دنوں میں کر سکتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ہماری بچپن کی کہانیوں میں سے الہ دین کے چراغ کی کہانی بہت مشہور تھی۔اللہ دین ایک غریب آدمی تھا۔اسے ایک چراغ مل گیا۔وہ جب اس چراغ کو رگڑتا تھا تو ایک جن ظاہر ہوتا تھا۔یہ بچوں کی کہانی بنائی ہوئی ہے۔جن کو وہ جو کچھ کہتا وہ فوراً تیار کر کے سامنے رکھ دیتا۔مثلاً اگر وہ اسے کوئی محل بنانے کا کہہ دیتا تو وہ آناً فاناً محل تیار کر دیتا۔فرماتے ہیں کہ بچپن میں تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ الہ دین کا چراغ ایک سچا واقعہ ہے، جب عقل نہیں تھی۔لیکن جب بڑے ہوئے تو سمجھا کہ یہ محض واہمہ اور خیال ہے۔یہ کہانی ہے۔لیکن اس کے بعد جب جوانی سے بڑھاپے کی طرف آئے تو معلوم ہوا کہ یہ بات ٹھیک ہے۔یہاں بیٹھے لوگ بڑے حیران ہو رہے ہوں گے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے کہا کہ بڑھاپے کی طرف آئے تو پتا لگا کہ یہ بات ٹھیک ہے۔الہ دین کا چراغ ضرور ہوتا ہے۔لیکن فرماتے ہیں کہ وہ تیل کا چراغ نہیں ہو تا بلکہ عزم اور ارادے کا چراغ ہو تا ہے۔جس کو