خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد 14 91 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 یہ باتیں صرف سننے کے لئے نہیں ہیں۔شاید بعضوں کا خیال ہو کہ حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں شاید ایسے لوگ تھے اور اب ایسے نہیں ہیں۔اب بھی ایسی شکایتیں ملتی رہتی ہیں۔اس زمانے میں تو صحابہ بھی تھے جو ایسے ٹیڑھے لوگوں کی اصلاح بھی کر دیا کرتے تھے۔لیکن ہم جو نبوت کے زمانے سے دُور جارہے ہیں اور آئندہ مزید دور جاتے رہیں گے اس زمانے میں ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔پہلے بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ہمیں پہلے سے زیادہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کس طرح عبد اللہ بننے کا حق ادا کرنا ہے اور اپنی ضد اور انانیت چھوڑنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔انتخابات کے موقع پر بھی ایسے سوال اٹھتے رہتے ہیں اگر بعض دفعہ بعض حالات میں جب اکثریت ووٹ کے خلاف فیصلہ دیا جائے تو اس قسم کے سوال لوگ لکھتے رہتے ہیں۔یہ سال بھی انتخابات کا سال ہے۔جماعتی لحاظ سے اس سال میں انتخاب ہونے ہیں اس لحاظ سے بھی ہر ایک کو اپنی سوچوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے کہ دعا کے بعد ہر تعلق کو اور ہر رشتے کو چھوڑ کر اپنا حق جو ہے وہ صحیح استعمال کریں، اپنی رائے دیں اور اس کے بعد جو فیصلہ ہو جائے اس کو قبول کر لیں۔مکمل طور پر اپنی ذاتیات سے بالا ہو کر اپنے فیصلے کریں۔ذیلی تنظیموں میں بھی ایسے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ابھی دو دن پہلے ہی ایک ملک میں ایک مجلس کی لجنہ کا انتخاب ہو اوہاں سے مجھے خط آگیا کہ کیوں فلاں کو بنایا گیا ہے، فلاں کو کیوں نہیں بنایا گیا۔وہ تو ایسی ہے ، وہ ویسی ہے۔تو اس قسم کی بیہودگیوں سے ہمیں بچنا چاہئے اور جو بھی بنا دیا جائے اس عرصے کے لئے جب تک وہ بنایا گیا بہر حال اس سے مکمل تعاون کرنا چاہئے۔پھر ایک بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا۔ایک بات یہ ہے کہ مومن کو چاہئے کہ مصمم ارادے کے ساتھ کوشش کرے اور اسے انجام تک پہنچائے اور بجائے دوسروں پر انحصار کرنے کے چاہے وہ افسر ہوں یا عہدیدار ہوں وہ صرف اپنے ماتحتوں پر انحصار نہ کیا کریں بلکہ خود بھی براہ راست ہر کام میں نگرانی رکھیں اور involve ہونے کی کوشش کریں۔تبھی کام صحیح رنگ میں انجام تک پہنچ سکتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیر آدمی تھا اس کا ایک بڑا لنگر تھا جس سے محتاج لوگ کثیر تعداد میں روزانہ کھانا کھاتے تھے لیکن بڑی خرابی یہ تھی کہ بد نظمی بہت زیادہ تھی۔امیر آدمی تھا، خود اس شخص میں نگرانی کی رغبت نہیں تھی، اس طرف توجہ نہیں دیتا تھا اور ملازم خائن اور بد دیانت تھے۔کچھ تو سو دالانے والے بہت مہنگا سود الاتے تھے اور کم مقدار میں لاتے تھے اور کچھ استعمال کرنے والے اپنے گھروں کو لے جاتے تھے اور پھر کھانا تیار کرنے والے کچھ خود کھا جاتے تھے کچھ اپنے رشتے داروں کو کھلا دیتے تھے اور کچھ ادھر ادھر ضائع کر دیتے تھے۔اسی طرح سٹور روم کھلے رہتے اور ساری رات کتنے اور