خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد 14 90 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 اسے آکر چمٹ گئے اور چونکہ سر کو آسانی سے ملا جا سکتا ہے اس لئے میکدم سب سر پر آگرے۔ایک کہے کہ میر اسر ہے۔دوسرا کہے یہ میر اسر ہے۔جس پر آپس میں لڑائی شروع ہو گئی اور ایک نے دوسرے کے چاقو مار دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔شور ہونے پر پولیس بھی آگئی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔عدالت کے سامنے بھی ایک غلام یہ کہہ رہا تھا کہ یہ میر اسر ہے۔دوسرا کہے کہ یہ میر اسر تھا۔عدالت نے نہانے والے سے پوچھا تو وہ کہنے لگا حضور ! یہ تو بے سر تھے۔بیوقوف تھے۔ان کی باتوں پر تو مجھے تعجب نہیں۔تعجب یہ ہے کہ آپ نے بھی یہ سوال کر دیا۔حالانکہ سر نہ اس کا ہے نہ اُس کا ہے۔سر تو میر ا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مثال اس لئے دیا کرتے تھے کہ دنیا کے جھگڑے بیہودہ ہوتے ہیں۔میرا کیا اور تیرا کیا۔غلام کا تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔وہ تو جب اپنے آپ کو کہتا ہے کہ میں عبد اللہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس کا کچھ بھی نہیں۔ایک حقیقی مسلمان کے بارے میں بتایا جارہا ہے اور یہ واقعہ اس تناظر میں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ کا جو بندہ ہوتا ہے وہ میر ایا تیرے کا سوال نہیں کرتا۔وہ تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ میں عبد اللہ ہوں۔اب اس کا کچھ بھی نہیں ہوتا۔سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے۔حقیقی مومن جب بنتا ہے تو پھر کہتا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہے۔اس کے بعد میرے تیرے کا سوال ہی کہاں باقی رہ سکتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھ کر دیکھ لو۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی عبد اللہ رکھا گیا ہے جیسا کہ آتا ہے "لَمَّا قَامَ عَبْدُ الله "۔تو خدا تعالیٰ کا غلام ہوتے ہوئے ہماری کوئی چیز نہیں رہتی بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے۔اسی لئے قرآن مجید نے بالوضاحت بتایا ہے کہ ہم نے مومنوں سے مال و جان لے لی۔دوست عزیز، رشتہ دار سب جان کے تحت آتے ہیں اور باقی مملوکات مال کے تحت آتی ہیں اور یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جن کا انسان مالک ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ دونوں چیزیں مومنوں سے لے لیں۔ان کی جان بھی لے لی اور ان کا مال بھی لے لیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں یہ جھگڑے نہیں ہونے چاہئیں کہ یہ چیزیں میری ہیں۔اور یہ چیز میری ہے اور وہ اس کی۔یہ جھگڑے نہ کرو۔میرے اور تیرے کا سوال نہیں یہاں ہو تا۔تم اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے زور لگاؤ اور چھوڑ دو ان باتوں کو کہ تم کہو کہ فلاں پریذیڈنٹ کیوں بنا۔اب یہاں انتخابات کی بات ہو گئی، عہدیداروں کی بات ہو گئی۔بعض لوگ جھگڑے پیدا کرتے ہیں کہ فلاں کیوں امام الصلوۃ بن گیا ہم اس کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھیں گے۔فلاں پریذیڈنٹ کیوں بن گیا۔فلاں کیوں نہ بنا۔فلاں سیکر ٹری کیوں بن گیا۔فلاں کیوں نہ ہوا۔یا جب تک فلاں شخص امام نہ بنے ہم فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 270-271)