خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 89

خطبات مسرور جلد 14 89 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 ایسے معاملات آتے ہیں کہ ہماری جماعت میں بھی بھائی بھائی کا حق دبا رہا ہوتا ہے یا دوسرے عزیزوں کے حق دبا رہے ہوتے ہیں۔اگر ہم اس طرف توجہ کریں تو ہمارے قضاء کے بھی بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔لڑائی جھگڑے ختم کرنے کے لئے اسلام کیا سوچ ہمیں دیتا ہے اور صحابہ کے کیا نمونے ہمارے سامنے ہیں۔روایتوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ امام حسن اور امام حسین کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو گئی۔بھائیوں بھائیوں میں بعض دفعہ ناراضگی کی کوئی بات ہو جاتی ہے، بحث ہو جاتی ہے۔حضرت امام حسن کی طبیعت بہت سلجھی ہوئی اور نرم تھی لیکن حضرت امام حسین کی طبیعت میں جوش پایا جاتا تھا۔ان میں جو جھگڑا ہوا اس میں حضرت امام حسین کی طرف سے زیادہ سختی کی گئی لیکن حضرت امام حسن نے صبر سے کام لیا۔اس جھگڑے کے وقت بعض اور صحابہؓ بھی موجود تھے۔جب جھگڑا ختم ہو گیا تو دوسرے دن ایک شخص نے دیکھا کہ حضرت امام حسن جلدی جلدی کسی طرف جارہے ہیں۔اس نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں جارہے ہیں؟ حضرت حسن کہنے لگے کہ میں حسین سے معافی مانگنے چلا ہوں۔وہ شخص کہنے لگا کہ آپ معافی مانگنے جارہے ہیں۔میں تو خود اس جھگڑے کے وقت موجود تھا اور میں جانتا ہوں کہ حسین نے آپ کے متعلق سختی سے کام لیا۔پس یہ ان کا کام ہے کہ وہ آپ سے معافی مانگیں، نہ یہ کہ آپ ان سے معافی مانگنے چلے جارہے ہیں۔حضرت حسن نے کہا یہ ٹھیک ہے۔میں اس لئے تو ان سے معافی مانگنے جارہا ہوں کہ انہوں نے مجھ پر سختی کی تھی کیونکہ ایک صحابی نے مجھے سنایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ جب دو شخص آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں سے جو پہلے صلح کرتا ہے وہ جنت میں دوسرے سے پانچ سو سال پہلے داخل ہو گا۔تو میرے دل میں یہ سن کر یہ خیال پیدا ہوا کہ کل میں نے حسین سے برا بھلا سنا اور انہوں نے مجھ پر سختی کی۔اب اگر حسین معافی مانگنے کے لئے میرے پاس پہلے پہنچ گئے اور انہوں نے صلح کر لی تو میں تو دونوں جہان سے گیا کہ یہاں بھی مجھ پر سختی ہو گئی اور اگلے جہان میں بھی میں پیچھے رہا۔چنانچہ میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ مجھ پر جو سخت ہو گئی وہ تو ہو گئی اب میں اُن سے پہلے معافی مانگ لوں گا تا کہ اس کے بدلے میں مجھے جنت تو پانچ سو سال پہلے مل جائے۔(ماخوذ از الفضل 23 مئی 1944ء صفحہ 4 کالم 2-3 جلد 32 نمبر 119) پس یہ وہ سوچ ہے جسے ہمیں اپنے پر لاگو کرنا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے ایک لطیفہ سنا ہوا ہے جو شاید مقامات حریری یا کسی اور کتاب کا قصہ ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی مہمان کسی جگہ نہانے کے لئے گیا۔حمام کے مالک نے مختلف غلاموں کو خدمت کے لئے مقرر کیا ہوا تھا۔بعض ملکوں میں حمام ہوتے ہیں جہاں خادم ہوتے ہیں جو مہمانوں کو مالش کرتے ہیں، نہلاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت مالک موجود نہ تھا۔جب وہ نہانے کے لئے حمام میں داخل ہوا تو تمام غلام