خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد 14 88 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 لگتا یہ ہے کہ آپ کو گھوڑوں کی قیمت سے واقفیت نہیں۔لیکن مالک نے زیادہ قیمت لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب میر اگھوڑا زیادہ قیمت کا نہیں تو میں کیوں زیادہ قیمت لوں۔اور اس پر ان کی تکرار ہوتی رہی یہاں تک کہ ثالث کے ذریعہ سے انہوں نے فیصلہ کرایا۔یہ اسلامی روح تھی جو ان دو صحابہ نے دکھائی۔اسلام کا حکم یہی ہے کہ ہر شخص بجائے اپنا حق لینے کے اور اس پر اصرار کرنے کے دوسرے کے حق کو دینے اور اس کو قائم کرنے کی کوشش کرے۔اُس زمانے میں بعض ہڑتالیں ہو رہی تھیں۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ جس وقت یہ روح قائم ہو جائے اس وقت ساری strikes خود بخود بند ہو جاتی ہیں۔مگر کم سے کم نیکی یہ ہے کہ جب کسی کی طرف سے اپنے حق کا سوال پیدا ہو تو اسے وہ حق دے دیا جائے اگر وہ اس کا حق بنتا ہے۔یہ غیر اسلامی روح ہے کہ چونکہ دوسرے کے حق پر ہم ایک لمبے عرصے سے قائم ہیں، اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس حق کو اپنا حق سمجھنے کی ایک عادت ہمیں ہو گئی ہے اس لئے ہم دوسرے کو وہ حق نہیں دے سکتے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 137) یہ انتہائی غلط چیز ہے جو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔مثلاً آجکل کی ترقی یافتہ دنیا میں بھی یہ ہڑتالوں کا جو حق دیا گیا ہے وہ بھی بغیر سوچے سمجھے ہے۔یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی حدود کیا ہونی چاہئیں۔مثلاً آجکل اس ملک میں، یوکے (UK) میں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال ہے جس سے مریض پریشان ہو رہے ہیں۔اپنا حق لینے کے لئے مریضوں کو نہ صرف علاج کی سہولت کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ بعض دفعہ ان کی زندگیوں سے بھی کھیلا جارہا ہے۔مجھے یاد ہے اس دفعہ جاپان کے دورے میں ایک عیسائی پادری جو بڑے شریف النفس انسان ہیں، مجھ سے انہوں نے سوال کیا کہ امن کی کیا تعریف ہے، کس طرح قائم کیا جائے۔کہنے لگے کہ مجھے ابھی تک تسلی بخش جو اب کہیں سے نہیں ملا کہ امن کی کیا تعریف ہے۔تو میں نے انہیں یہ بتایا جو میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اسلام کہتا ہے کہ جو اپنے لئے پسند کر ووہ دوسرے کے لئے پسند کرو۔جب ایسا کرو گے تو ایک دوسرے کے حق قائم کر رہے ہو گے اور جب حق قائم کرو گے تو امن ہو گا۔ایک دوسرے کے لئے پھر تم لوگ سلامتی بھی بھیج رہے ہو گے۔کہنے لگا یہ تعریف میرے دل کو بڑی لگی ہے۔یہ پہلی دفعہ سنی ہے۔پس آج اسلام ہی ہر معاملے کے حقیقی راستے دکھا سکتا ہے لیکن اس کے عملی نمونے دکھائے بغیر ہم دنیا کو قائل نہیں کر سکتے۔ناجائز حق لینے کا تو سوال ہی نہیں اگر ہم جائز حق بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائیں اس لئے کہ امن قائم کرنا ہے تو امن قائم ہو گا۔ہم جائز حق بھی چھوڑ دیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور جب یہ ہو گا تو کیونکہ ایک معاشرے میں دونوں طرف سے حقوق ادا کرنے کی کوشش ہو رہی ہو گی تو دوسرا فریق بھی اگر مومن ہے تو وہ بھی ناجائز حق نہیں لے گا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی دوسرے کا ناجائز حق لے۔لیکن افسوس ہے کہ بعض دفعہ قضاء میں