خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد 14 87 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 چڑیا کا بچہ پانی پی سکے۔فرشتوں نے کہا خدایا وہاں تک پانی پہنچانے میں تو ساری دنیا غرق ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے جواب دیا کہ کوئی پرواہ نہیں۔اس وقت دنیا کے لوگوں کی میرے نزدیک اتنی بھی حیثیت نہیں جتنی اس چڑیا کے بچے کی حیثیت ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 678-679) پس گو یہ کہانی ہے لیکن اس کہانی میں یہ سبق ہے کہ صداقت اور راستی سے خالی دنیا ساری کی ساری مل کر بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک چڑیا کے بچے جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔پس آج اس کہانی سے جہاں ہم یہ سبق لیتے ہیں کہ صداقت پر کھڑا ہونا چاہئے۔اپنے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے مانا کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں۔اپنے اندر کی برائیاں دور کریں گے اور نیکیوں کو قائم کریں گے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہماری حالت میں اگر ترقی کے بجائے انحطاط ہو رہا ہے، نیچے گر رہی ہے تو ہم اپنے مقصد سے دُور ہٹ رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی ہماری کوئی پرواہ نہیں ہو گی۔اسی طرح یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ دنیا کی کیا حالت ہو رہی ہے۔بہت سارے ممالک میں نہ عوام اور نہ حکومتیں ایک دوسرے کا حق ادا کر رہی ہیں۔فتنہ و فساد ہے۔اور جہاں بظاہر فتنہ و فساد کی حالت نہیں یا بہت زیادہ خراب حالت نہیں وہاں بھی اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف نہ صرف اللہ تعالیٰ سے دُور ہو کر بلکہ اس کے خلاف بد زبانی کر کے ، غلط باتیں کر کے اس کی ہتک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وہاں غلاظتوں میں بھی اتنے ڈوب رہے ہیں کہ غیر فطری کاموں کو قانون نافذ کیا جارہا ہے بلکہ کہا جاتا ہے جو غلیظ کاموں کی حمایت نہیں کرتا وہ قانون کا مجرم ہے۔یہ زلزلے، یہ طوفان یہ فسادات، بے انتہا بارشیں جنہوں نے تباہی پھیلائی ہوئی ہے، یہ اس وجہ سے ہے کہ گناہوں کی انتہا ہو رہی ہے اور یہ تو ابھی وار ننگ ہے جو اللہ تعالیٰ دے رہا ہے۔اللہ تعالیٰ تنبیہ کر رہا ہے۔پس اس لحاظ سے بھی احمدیوں کا بہت بڑا کام ہے کہ دنیا کو ہوشیار کریں اور بتائیں کہ اگر اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بہت زیادہ تباہ کن آفات لا سکتا ہے۔اللہ کرے کہ دنیا کو عقل آئے۔پھر آجکل کی باتوں میں سے ایک بات ہم دیکھتے ہیں اور ہمیشہ سے یہ ہے کہ دنیا میں اپنے حق لینے کے لئے باتیں ہوتی ہیں چاہے اس سے دوسرے کو کتنا ہی نقصان پہنچے۔ایک حقیقی مسلمان کی اس بارے میں کیا سوچ ہونی چاہئے ؟ اس بارے میں یہ واقعہ بہترین رہنما ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک صحابی اپنا گھوڑا دوسرے صحابی کے پاس فروخت کرنے کے لئے لایا اور اس کی قیمت مثلاً دو سو روپے بتائی۔دوسرے صحابی نے کہا کہ میں اس قیمت میں گھوڑا نہیں لے سکتا کیونکہ اس کی قیمت دوگنی ہے۔معلوم ہو تا ہے کہ اس نے دوسرے کو کہا کہ