خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 86

خطبات مسرور جلد 14 98 86 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 فروری 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 12 / فروری 2016ء بمطابق 12 تبلیغ 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن۔لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مختلف خطبات اور خطابات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان کردہ بعض سبق آموز باتیں اور کہانیاں بیان فرماتے ہیں۔میں مختلف اوقات میں یہ بیان کرتارہاہوں۔آج بھی یہی بیان کروں گا۔ایک خطبہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ مضمون بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنی طرف سے کھڑا کرتا ہے یا انبیاء بھیجتا ہے تو ان کی تائید و نصرت بھی فرماتا ہے اور اگر صداقت ظاہر کرنے کے لئے دنیا کی کثیر آبادی کو ان کے غلط کاموں کی وجہ سے سزا دینا چاہے تو پر واہ نہیں کرتا اور سزا دیتا ہے۔اس سلسلے میں ایک کہانی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بچپن میں ہمیں کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہتے تو آپ ہمیں ایسی کہانیاں سناتے جنہیں سن کر عبرت حاصل ہوتی۔یہ مضمون بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی مجھے اس وقت یاد آگئی۔جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے میں نے سنا۔آپ فرماتے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں طوفان اس وجہ سے آیا کہ لوگ اس وقت بہت گندے ہو گئے تھے اور گناہ کرنے لگ گئے تھے۔وہ جوں جوں اپنے گناہوں میں بڑھتے جاتے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی قیمت گرتی جاتی۔یہ کہانی ہے کہ آخر ایک دن ایک پہاڑی کی چوٹی پر کوئی درخت تھا اور وہاں گھونسلے میں چڑیا کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا۔اس بچے کی ماں کہیں گئی اور پھر واپس نہ آسکی۔شاید مرگئی یا کوئی اور وجہ ہوئی کہ نہ آئی۔بعد میں اس چڑیا کے بچے کو پیاس لگی اور وہ پیاس سے تڑپنے لگا اور اپنی چونچ کھولنے لگا۔تب خدا تعالیٰ نے یہ دیکھ کر اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور زمین میں پانی برساؤ اور اتنابر ساؤ کہ اس پہاڑی کی چوٹی پر جو درخت ہے اس کے گھونسلے تک پہنچ جائے تا کہ