خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 85
خطبات مسرور جلد 14 85 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 عطا کی تھی۔کہتے ہیں ایک دفعہ ایک سفر کے دوران انہوں نے خاکسار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی کلام سیکھنے کی فرمائش کی۔کہتے ہیں میں نے انہیں جان و دلم فدائے جمال محمد است کے تقریباً پانچ اشعار ترنم کے ساتھ سکھائے۔چنانچہ جب ہم گاؤں میں پہنچے جہاں دورے پہ جارہے تھے تو وہاں جلسے میں انہوں نے وہ اشعار ترنم سے سنائے۔اور پھر جو لا زبان میں ان کا ترجمہ بھی کیا۔اسلام احمدیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ظہور امام مہدی کے بارے میں عربی، جولا اور فریج زبان میں بیشمار نظمیں خود انہوں نے کمپوز کیں اور خود ہی ترنم سے پڑھتے بھی تھے جو کہ لوگوں میں بے حد مقبول ہوئیں۔2003ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی وفات کے بعد نارتھ ریجن میں جو باغیوں کے کنٹرول میں تھا اور عملاً ملک سے کٹا ہو اتھا وہاں جماعت کے مخالفین نے یہ جھوٹا پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ ان کے خلیفہ کی وفات ہو گئی ہے اور اس کے بعد اب جماعت ختم ہو گئی ہے جس سے اس علاقے کے احمدیوں میں بے چینی پھیل گئی۔جب یہ خبر مرکز میں پہنچی تو قاسم تورے صاحب کو اس جھوٹے پراپیگنڈے کے قلع قمع کے لئے بھیجا گیا۔ان دنوں میں نارتھ ریجن کا سفر بہت مشکل تھا لیکن قاسم صاحب بس پر ، ٹریکٹر ٹرالی پر ، موٹر سائیکل پر، گدھا گاڑی پر ، پیدل سفر کرتے کراتے جنگلوں میں سے گزرتے ہوئے ان جماعتوں میں پہنچے۔وہاں اس علاقے میں دوبارہ تبلیغ کی اور بتایا کہ خلافت کا نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم ہے۔پھر اس سے احمدیوں کا مورال بلند ہوا۔چنانچہ اس دورے کے نتیجہ میں بہت سی جماعتوں میں زندگی کی نئی روح پید اہوئی اور یوں انہیں جھوٹے پراپیگنڈے کو ختم کرنے کی توفیق ملی۔تبلیغ کی خاطر آپ اکثر ایک ایک ماہ کے مسلسل دورے کیا کرتے تھے اور بڑی محنت کرنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی جماعت کے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 26 فروری 2016ء تا 03 / مارچ 2016ء جلد 23 شماره 109 صفحہ 05 تا 08)