خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xi of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page xi

خطبات مسرور جلد 14 خطہ نمبر خلاصه / عنوان IX آواز آئے تم فوراً اس پر لبیک کہو اور اس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑو کہ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے۔مکرم عبد النور جابی صاحب آف سیریا کا ذکر خیر تاریخ خلاصه خطبات 13 23 مارچ کا دن جماعت احمدیہ میں بڑا اہم دن ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود 25 مارچ بیت الفتوح - لندن کے ارشادات کے حوالہ سے آپ کی بعثت کی اغراض کا تذکرہ اور اس حوالہ سے احباب جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کی تاکید 23 مارچ کے دن ایک دوسرے کو اگر تو اس نیت سے مبارکبادیں دی تھیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کو مانا اور اس بات کا شکر۔۔۔تو یقیناً یہ مبارکبادیں دینا ان مبارکباد دینے والوں کا حق تھا۔اس میں کوئی حرج نہیں اور اس میں کوئی بدعت بھی نہیں۔خلافت کے قدموں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں، جو بھی کرے گا وہ پھسل جائے گا۔اپنی ذوقی بات کو افراد جماعت پر ٹھونسنے یا لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں۔مکرمہ محمودہ سعدی صاحبہ اور مکرم نورالدین چراغ صاحب کی نماز جنازہ حاضر اور مکرمہ سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم عبد الباری صاحب تعلقدار کی نماز جنازہ غائب 14 حضرت مسیح موعود اپنی تحریروں، تقریروں اور مجالس میں بھی بعض باتیں 101اپریل بیت الفتوح - لندن مثالوں سے بیان فرمایا کرتے تھے جو آپ کے صحابہ کی روایات سے ہمیں ملتی ہیں۔لیکن سب سے زیادہ احسان ہم پر اس سلسلے میں حضرت مصلح موعودؓ کا ہے جنہوں نے اپنے خطبات و خطابات میں حضرت مسیح موعود کی بیان فرمودہ باتیں بیان کی ہیں جو عموماً حضرت مصلح موعودؓ نے خود دیکھیں یا سنیں یا قریب کے صحابہ نے آپ کو بتائیں۔میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ان باتوں اور روایتوں کو خطبات میں بیان کر رہا ہوں جس پر مجھے کئی خطوط بھی آئے ہیں کہ ان مثالوں یا واقعات سے ہمیں آسانی سے بات سمجھ آجاتی ہے۔آجکل اسلامی ممالک میں جو ہڑتالیں اور بغاوتیں ہوتی ہیں سوائے اس کے جہاں شیطانی طاقتیں کام کر رہی ہیں عموماً عوام اور حکومت کے درمیان بے چینیاں ایک دوسرے کے حق ادانہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔بعض خاوند حق مہر کی ادائیگی تو علیحدہ رہی عورت جو اپنی کمائی کر رہی ہوتی ہے اس پر بھی پابندی لگا دیتے ہیں کہ تم نے ہمارے پوچھے بغیر خرچ نہیں کرنا۔یا ہمیں دینا، جو سر اسر ناجائز چیز ہے۔بعض جگہوں پر یہ بھی رواج ہے کہ والدین شادی کے وقت حق مہر لڑکی کے خاوند یا سسرال سے خود وصول کر لیتے ہیں اور لڑکی کو کچھ بھی نہیں ملتا۔وہ بیاہ کے خالی ہاتھ رہتی ہے۔یہ بھی غلط چیز ہے۔بعض لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف دین کی طرف توجہ رکھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی کام کے لئے پیدا کیا ہے۔جو ہماری تعلیم اور روایات کے خلاف چیز ہو اس سے ہمیں