خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 84
خطبات مسرور جلد 14 84 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 فروری 2016 جس نے ہر قسم کی بدعت، فسق و فجور ، نفسانی جذبات سے خدا تعالیٰ کے لیے الگ کر لیا۔اور ہر قسم کی نفسانی لذات کو چھوڑ کر خدا کی راہ میں تکالیف کو مقدم کر لیا۔ایسا شخص فی الحقیقت نجات یافتہ ہے جو خدا تعالیٰ کو مقدم کرتا ہے اور دنیا اور اس کے تکلفات کو چھوڑتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 355 تا 357) اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنے اندر عملی تبدیلیاں پیدا کرنے والے ہوں۔سچائی کے معیار کی اہمیت کو سمجھنے والے ہوں۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر صرف اپنے مونہوں سے نہیں بلکہ حقیقت میں آپ کی بعثت کے مقصد کو سمجھنے والے ہوں اور اسے پورا کرنے والے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی بھر پور کوشش کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم کر کے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم قاسم تورے صاحب مبلغ سلسلہ آئیوری کوسٹ کا ہے۔یہ وہاں کے مقامی باشندے تھے۔25 جنوری 2016ء کو بقضائے الہی وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔آپ نے 1986ء میں احمدیت قبول کی تھی۔قبول احمدیت سے قبل آپ ایک ذاتی مدرسہ چلاتے تھے اور احمدیت میں داخل ہونے کے بعد آپ نے وہ اپنا مدرسہ جماعت کو پیش کر دیا جسے بعد میں پرائمری سکول میں تبدیل کر دیا گیا۔1990ء میں جامعہ احمدیہ آئیوری کوسٹ سے مشنری کورس جو مربی کا کورس ہے ، معلم کا کورس ہے مکمل کیا اور اس کے بعد ایک لمبے عرصے تک آئیوری کوسٹ کے طول و عرض میں تبلیغی دورہ جات کئے۔بیشمار شہروں اور دیہاتوں میں احمدیت کا پودا لگایا۔آپ کو دس سال تک بستم ریجن میں بطور ریجنل مشنری کام کرنے کی بھی توفیق ملی۔آپ نے تقریباً ایک سال اردو زبان سیکھنے کے لئے صرف کیا اور پھر وفات تک جولا زبان میں خطبات جمعہ کے ترجمہ کا کام بھی جاری رکھا۔مرحوم موصی تھے۔وہاں کے مبلغ باسط صاحب لکھتے ہیں کہ آپ سے خاکسار کا تعارف 1996ء میں ہو ا تھا۔86 ء سے لے کر اب تک گزشتہ تیس سال سے ان کو جماعتی خدمت کی توفیق مل رہی تھی۔جماعت سے وفاداری، خلافت سے محبت، کلام امام سے محبت اور ان تھک محنت ان کے نمایاں اوصاف تھے۔آپ نے اپنے شوق سے اردو لکھنی پڑھنی سیکھی تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے براہ راست استفادہ کر سکیں۔اس کے لئے دو دفعہ قادیان بھی گئے تا کہ اردو سیکھ سکیں۔واپس آکر بڑے شوق سے کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں میرے ساتھ اکثر ٹیلیفون پر رابطہ ہو تا تھا۔مختلف محاورات اور مشکل الفاظ کے بارے میں پوچھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام بھی بڑے شوق اور عشق کے جذبے سے پڑھتے تھے اور اس کا ترجمہ جاننے کی بھی کوشش کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں خوش الحانی